زائشہ عثمان کے اشعار
ہر بات دل کی لب پہ نہیں لانا لازمی
کچھ گفتگو میں بھی ادب آداب چاہیے
کیسا یہ مرحلہ ہے کہ اک دوسرے سے ہم
کہنے کو آشنا ہیں مگر آشنا نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اے شخص تجھ سے ترک تعلق کا غم نہیں
غم یہ ہے میں نے خود کو ترے ساتھ کھو دیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
لوگ آئیں گے بہت چھوڑ کے جائیں گے بہت
ہر کسی کو نہ کلیجے سے لگا کر رکھیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ناتواں شخص ہی پاتا ہے سزائیں اکثر
گو خطا وار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا
یہ الگ بات مجھے لوٹ کے آنا ہے یہیں
تیرگی مجھ کو مگر پھر بھی رہائی دے دے
بجھنے نہیں دیا اسے فرقت کے بعد بھی
یادوں سے تیری دل کو فروزاں رکھا سدا
کہاں تک ہم نباہیں زندگی تیرے مصائب سے
کہاں تک زیب دیتا ہے کسی کا با وفا ہونا
ہم کہ رکھتے ہیں آسماں کی طلب
اور اڑنے کا حوصلہ بھی نہیں
تو نے سینے سے جنہیں آج لگا رکھا ہے
دل سے وہ لوگ ہی جائیں نہ اتر کس کو خبر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ