Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

زائشہ عثمان

زائشہ عثمان کے اشعار

31
Favorite

باعتبار

ہر بات دل کی لب پہ نہیں لانا لازمی

کچھ گفتگو میں بھی ادب آداب چاہیے

بڑی ویرانی ہے دل کے شجر پر

محبت کے پرندے اڑ گئے کیا

کیسا یہ مرحلہ ہے کہ اک دوسرے سے ہم

کہنے کو آشنا ہیں مگر آشنا نہیں

مفلسی پاؤں کی زنجیر تھی اور

رو برو آ کے ضرورت ٹھہری

اے شخص تجھ سے ترک تعلق کا غم نہیں

غم یہ ہے میں نے خود کو ترے ساتھ کھو دیا

لوگ آئیں گے بہت چھوڑ کے جائیں گے بہت

ہر کسی کو نہ کلیجے سے لگا کر رکھیے

ناتواں شخص ہی پاتا ہے سزائیں اکثر

گو خطا‌ وار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

یہ الگ بات مجھے لوٹ کے آنا ہے یہیں

تیرگی مجھ کو مگر پھر بھی رہائی دے دے

زندگی ہم نے کی بسر کچھ یوں

شوق کچھ اور مشغلے کچھ اور

بجھنے نہیں دیا اسے فرقت کے بعد بھی

یادوں سے تیری دل کو فروزاں رکھا سدا

کہاں تک ہم نباہیں زندگی تیرے مصائب سے

کہاں تک زیب دیتا ہے کسی کا با وفا ہونا

ہم کہ رکھتے ہیں آسماں کی طلب

اور اڑنے کا حوصلہ بھی نہیں

تو نے سینے سے جنہیں آج لگا رکھا ہے

دل سے وہ لوگ ہی جائیں نہ اتر کس کو خبر

Recitation

بولیے