Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abul Mujahid Zahid's Photo'

ابو المجاہد زاہد

1928 - 2009 | رام پور, انڈیا

اسلامی فکر کے زیر اثر شاعری کرنے والے معروف شاعر

اسلامی فکر کے زیر اثر شاعری کرنے والے معروف شاعر

ابو المجاہد زاہد کا تعارف

تخلص : 'زاہد'

اصلی نام : زاہد علی

پیدائش : 28 Jun 1928 | لکھیم پور کھیری, اتر پردیش

وفات : 06 Mar 2009

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

اردو ادبِ اسلامی کی دنیا میں ابوالمجاہدؔ زاہد کا نام بڑے احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام زاہد علی تھا۔ ان کی پیدائش 28 جون 1928ء کو ریاست اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ عالیہ رام پور میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے علم و ادب سے گہری دل چسپی رکھتے تھے۔ 1942ء میں انہیں شاعری کا ذوق پیدا ہوا، جس کے بعد وہ اردو کے مشہور شاعر علامہ سیمابؔ اکبرآبادی کے شاگرد بنے، جس سے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو نئی بلندیاں ملیں۔

 ابوالمجاہدؔ زاہد نے صرف شاعری ہی نہیں کی بلکہ علم و ادب کی خدمت کو اپنا مشن بنا لیا۔ انہوں نے اردو کے قدیم ہفت روزہ اخبار ’’دبدبۂ سکندری‘‘ میں نائب مدیر اور لکھنؤ کے معروف ادبی ماہنامہ ’’نئی نسلیں‘‘ کے مرتب کی حیثیت سے بھی اہم خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرکزی درسگاہِ اسلامی رام پور اور جامعۃ الصالحات رام پور میں تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے نئی نسل کی علمی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اُن کی شاعری میں دین، ملت، انسانیت، بیداری اور عشقِ رسول  کے جذبات پورے خلوص کے ساتھ نمایاں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے نظم، غزل اور خصوصاً نعت کے میدان میں یادگار کلام لکھے۔ ان کے دو مشہور شعری مجموعے ’’تگ و تاز‘‘ اور ’’یدِ بیضا‘‘ ادبی حلقوں میں خوب مقبول ہوئے۔

ابوالمجاہدؔ زاہد کا نام ان شاعروں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے قلم کو قوم کی بیداری، دین کی سرفرازی اور انسانی قدروں کی ترویج کا ذریعہ بنایا۔ 6 مارچ 2009ء کو یہ روشن چراغ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، لیکن اپنی علمی، ادبی اور شاعرانہ وراثت کے ذریعے آج بھی اردو ادب کی دنیا میں زندہ ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے