Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عدیل زیدی کا تعارف

تخلص : 'عدیل'

اصلی نام : عدیل زیدی

پیدائش : 06 Jul 1958 | سُکّر, سندھ

رشتہ داروں : سید اختر رضا زیدی (والد), جاوید زیدی (بھائی), عروج اختر زیدی (بھائی)

دے حوصلے کی داد کہ ہم تیرے غم میں آج

بیٹھے ہیں محفلوں کو سجائے ترے بغیر

عدیلؔ زیدی کا تعلق ایک ممتاز علمی و ادبی خانوادے سے ہے۔ وہ 6 جولائی1958 کو صوبہ سندھ کے ضلع سکھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسر سید اختر رضا زیدیؔ جو تاریخ کے پروفیسر تھے، بہت توانا علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے۔"اے شارٹ ہسٹری آف سویلائزیشن،" "جیومیٹری میڈ ایزی،" "خلافت کا عروج و زوال،" "آئینۂ تاریخ اسلام اور علی" وغیرہ ان کی اہم کتابیں ہیں۔ ان کے شعری مجموعہ "بیاضِ اختر" کے علاوہ نوحہ، سلام اور منقبت پر مشتمل مجموعۂ کلام 'کلیمِ کربلا' (1943) میں شائع ہوا۔ ان کے بڑے بھائی سید عروج اختر زیدی بھی اردو کے معتبر شاعر تھے۔

عدیل زیدی کا شعری ذوق سات سال کی عمر میں ہی پروان چڑھنے لگا تھا اور اردو سے محبت کی بنیادیں اتنی مضبوط تھیں کہ پردیس کی اجنبی ہوائیں بھی ان بنیادوں کو کمزور نہ کرپائیں۔ وہ 1977 سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی پروفیشنل تعلیم انڈسٹریل انجینئرنگ اور انڈسٹریل مینجمنٹ سے متعلق ہے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ جرمنی اور امریکہ کی مختلف کمپنیوں میں کم و بیش 25 سال تک ملازمت کرتے رہے۔ اس کے بعد اپنی کمپنی Bullseye Engagement کی بنیاد ڈالی اور تقریباً 18سال سے اس کے سی ای او اور چیئرمین ہیں۔ 

اب تک ان کے چار شعری مجموعے 'چلتے چلتے' (1998)، 'کہاں آ گئے ہم' (2008)،  'اذانِ مجلس' (2009میں پاکستان سے جبکہ 2021 میں ہندوستان سے عبارت پبلی کیشن، دہلی) اور 'قرضِ جاں' (2021میں پہلا ایڈیشن اور 2024 میں دوسرا ایڈیشن عبارت پبلی کیشن، دہلی سے اور 2025میں الحمد پبلی کیشن ،لاہور سے) منظر عام پر آچکے ہیں۔ 

عدیل زیدی کی زیرِ ترتیب شائع شدہ کتابوں میں جوش ملیح آبادی کا آخری شعری مجموعہ 'محمل و جرس' اور نثری مجموعہ 'فکروذکر،' جون ایلیا کا غیر مطبوعہ کلام 'کیوں' ، عبید اللہ علیم کا شعری مجموعہ 'ایک زمانہ خواب کا' اور کرشن بہاری نور کا کلیات 'من مرشد' قابل ذکر ہیں۔

عدیل زیدی ایک کثیر الابعاد شخصیت کا نام ہے، ان کی شخصیت اور فن کی روشن جہتوں پر 'کتنے منظر' کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔ 
"گفتگو: عدیل زیدی کے ساتھ" مشاہیرِ علم و ادب کے انٹرویوز کا مجموعہ ہے۔ ان مکالمات کے ذریعے نہ صرف عہدِ حاضر کے تہذیبی، ثقافتی اور سماجی حالات کی جھلک سامنے آتی ہے بلکہ ادب سے وابستہ مختلف تصورات، افکار اور فکری رجحانات سے بھی بامعنی آشنائی حاصل ہوتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے