Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmad Javaid's Photo'

احمد جاوید

1948 | کراچی, پاکستان

ممتاز معاصر پاکستانی شاعروں میں شامل

ممتاز معاصر پاکستانی شاعروں میں شامل

احمد جاوید کے اشعار

2.4K
Favorite

باعتبار

خبر نہیں ہے مرے بادشاہ کو شاید

ہزار مرتبہ آزاد یہ غلام ہوا

گہوارۂ سفر میں کھلی ہے ہماری آنکھ

تعمیر اپنے گھر کی ہوئی سنگ میل سے

گھر اور بیاباں میں کوئی فرق نہیں ہے

لازم ہے مگر عشق کے آداب میں رہنا

دل بیتاب کے ہم راہ سفر میں رہنا

ہم نے دیکھا ہی نہیں چین سے گھر میں رہنا

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں

کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں

سکھ کی خاطر دکھ مت بیچ

جال کے پیچھے جال نہ ڈال

ہمیشہ دل ہوس انتقام پر رکھا

خود اپنا نام بھی دشمن کے نام پر رکھا

عجب سفر تھا عجب تر مسافرت میری

زمیں شروع ہوئی اور میں تمام ہوا

تری دنیا میں اے دل ہم بھی اک گوشے میں رہتے ہیں

ہمیں بھی کچھ امیدیں ہیں تری عالم پناہی سے

دنیا مرے پڑوس میں آباد ہے مگر

میری دعا سلام نہیں اس ذلیل سے

یہ کیا چیز تعمیر کرنے چلے ہو

بنائے محبت کو ویران کر کے

اس کی آنکھوں کے وصف کیا لکھوں

جیسے خوابوں کا بیکراں ٹھہراؤ

ایک آنسو سے کمی آ جائے گی

غالباً دریاؤں کے اقبال میں

یہ ایک لمحے کی دوری بہت ہے میرے لیے

تمام عمر ترا انتظار کرنے کو

دل سے باہر آج تک ہم نے قدم رکھا نہیں

دیکھنے میں ظاہرا لگتے ہیں سیلانی سے ہم

طلوع ساعت شب خوں ہے اور میرا دل

کسی ستارۂ بد کی نگاہ میں آیا

یہی دل جو اک بوند ہے بحر غم کی

ڈبو دے گا سب شہر طوفان کر کے

مشغول ہیں صفائی و توسیع دل میں ہم

تنگی نہ اس مکان میں ہو میہمان کو

Recitation

بولیے