اجمل کمال کے ذریعے کیے گئے تراجم
ترچھ
ادے پرکاش
انسانی فطرت میں انتقام و حسد کے جذبے اور اس کی زہرناکی کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ رام سوارتھ پرساد سیدھے سادے ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر اور ایک گاؤں کے پردھان تھے، جو اپنی اصول پسندی کی وجہ سے ایک غربت زدہ زندگی گزارتے تھے۔ ایک دن جنگل میں ان کو ترچھ نے کاٹ لیا، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا کاٹا ہوا بچتا نہیں ہے۔ رام سوارتھ کو پنڈت رام اوتار نے زہر کے تریاق کے طور پر دھتورے کے بیج ابال کر پلا دیے تھے، جس کی وجہ سے ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا تھا اور شہر کی بھیڑ نے انہیں پاگل سمجھ کر پتھروں ڈھیلوں سے لہو لہان کرکے مار ڈالا۔