اشہد کریم الفت کے اشعار
میری فکر نہیں ہے تجھ کو اپنی فکر تو کرنی ہوگی
تیرا نام بھی میلا ہوگا میری بھی رسوائی میں
بادل کے ایک ٹکڑے میں کیوں دب گئی تپش
سورج ہزار درجہ جلالی بنا رہا
دعائے دست فضیلت سے سر کی رونق ہے
ہمارے گھر کے بزرگوں سے گھر کی رونق ہے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere