اسلم جمشید پوری کے افسانے
ایک ادھوری کہانی
‘’پھر یوں ہوا کہ اچانک شہزادہ غائب ہو گیا۔۔’’ شادمانی بیگم سانس لینے کو رکیں تو بچوں کے سوالوں کی بوچھار ہو نے لگی۔ ‘’نانی آپا! ایسا کیسے ہو گیا۔۔۔؟’’ریحان کا تجسس اس کی زبان پر آ گیا۔ ‘’دادی آپا! شہزادہ کہاں چلا گیا؟ کیا پری اسے لے گئی؟’’ سمیہ
عید گاہ سے واپسی
پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر واقعہ یاد تھا۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو واپسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لایا تھا۔ اس وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق بنایا تھا۔ لیکن
بنتے مٹتے دائرے
وہ خصوصی طور پر آسمان سے نہیں اتری تھی۔ اسی گاؤں میں پیدا ہوئی۔ بڑی ہوئی اور اب گاؤں کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گاؤں کی پہلی لڑکی تھی جس نے ظلم سہا اور آہستہ آ ہستہ خود کو ظلم کے خلاف کھڑا بھی کیا۔ وہ عام سی لڑکی تھی۔ وہ، ماتا دین