بشر نواز کا تعارف
تخلص : 'بشر'
اصلی نام : بشارت نواز خاں
پیدائش : 18 Aug 1935 | اورنگ آباد, مہاراشٹر
وفات : 09 Jul 2015 | اورنگ آباد, مہاراشٹر
کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی
گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی
امین نواز خاں کے فرزند، ممتاز نقاد، ہجو نگار، شاعر اور نغمہ نگار بشارت نواز خاں ادبی دنیا میں بشر نوازکے نام سے معروف ہیں۔ 18 اگست 1935ء کو مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد گریجویشن کے لیے حیدرآباد گئے، تاہم اعلیٰ تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ شاعری کا آغاز 1953ء میں کیا اور 1954ء ہی سے بڑے مشاعروں میں مدعو کیے جانے لگے۔ حیدرآباد کے ایک مشاعرے میں معروف ترقی پسند شاعر مخدوم محی الدین نے پہلی بار ان کا تعارف سامعین سے کرایا۔
ان کے شعری مجموعوں "رائیگاں" اور "اجنبی سمندر" کے علاوہ تنقیدی مجموعہ "نیا ادب نئے مسائل" بھی شائع ہو چکا ہے۔ بشر نواز ترقی پسند تحریک کے نمایاں شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی نظموں کے مخصوص آہنگ اور ترنم کے باعث بھی پہچانے جاتے تھے۔
ایک عرصے تک فلمی دنیا سے وابستہ رہے۔ معروف فلم "بازار" کا مقبول گیت "کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی" انہی کا تخلیق کردہ ہے۔ ان کے لکھے ہوئے نغمے محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے سمیت متعدد نامور فنکاروں کی آواز میں عوام تک پہنچے۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے کئی ڈرامے بھی تحریر کیے، جبکہ ٹی وی سیریل "امیر خسرو" کا اسکرپٹ بھی ان ہی کا لکھا ہوا ہے۔ ان کا کلام دیوناگری رسم الخط میں بھی دستیاب ہے۔
9 جولائی 2015ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔