داغ نیازی کا تعارف
داغ نیازی ریاست یوپی کے ادبی شہر کانپور کے سخنور ہیں اور ادبی حلقے میں دور دراز تک اپنے فن کی بدولت جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام علی محمد جب کہ جہانِ شعر و ادب میں داغ نیازی کے نام سے ان کی پہچان ہے۔ ان کا تخلص داغ ہے۔ والد کا نام نیر علی (مرحوم) ہے اور والدہ کا نام صدیق النساء ہے۔ ان کی پیدائش 12 ستمبر 1954ء کو الہ آباد، اترپردیش میں ہوئی تھی۔
معروف شاعر و ادیب منظر خیامی کے مطابق ”داغ نیازی کی عمر کا طویل حصہ محکمۂ دفاع میں بخوبی اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے سبک دوش ہو گئے دوران ملازمت بھی کاغذ قلم سے رشتہ ہمیشہ مستحکم رہا۔ فکر کی راہ سے گزرتے ہوئے مشاہدات، تجربات اور اچھے برے حالات و مصائب و مشکلات کو داغ نیازی نے بہت قریب سے محسوس کیا، اپنے احساسات کو لفظی جامہ پہنا کر اسے قلم بند کرتے رہے ہیں۔ ان کے غورو فکر کا انداز ماحول کی تبدیلیوں سے سمجھوتا بھی کرتا رہا ہے۔ بعض تعصب پسندوں کی مخالفتوں اور بیجا تنقیدوں سے نبرد آزما ہوکر فنکاری کے جوہر دکھانے سے بعض نہیں آئے، وہ آزادی اور بے نیازی سے بے فکری کے ساتھ قرطاس سے وفا اور قلم سے نباہ کرتے رہے اور یہ سلسلہ ابھی تک تھما نہیں ہے۔ اصنافِ شاعری میں بہت سی اصناف پر داغ نیازی نے طبع آزمائی کی لیکن ان کا رجحان نعت و غزل کی جانب زیادہ ہے۔“
داغ نیازی کی متعدد کتابیں منظرِ شہود پر آ چکی ہیں جن کے نام اس طرح ہیں۔ ”مدینے کا چاند“ (نعتیہ مجموعہ):2009ء، ”آئینۂ حیات“ (غزلیں):2014ء، ”عکسِ آئینہ“ (غزلیں) ہندی:2021ء اور ”میزانِ نور“ (نعتیہ مجموعہ):2021ء اور ”تقدیس“ (مجموعۂ نعت):2024ء جب کہ دو کتابیں ”عکسِ حیات“ (غزلیں) اور اعتراف (غزلیں) زیرِ ترتیب ہیں۔
ان کا ایک شعر نمونتاً پیشِ خدمت ہے جس میں عہدِ حاضر کی عکاسی نہایت عمدہ طریقے سے کی گئی ہے۔
امنِ باہم کی فضا برباد ہے
یہ ہمارے دور کی ایجاد ہے