دہلی پبلک لائبریری، دہلی کا تعارف
دہلی پبلک لائبریری دہلی کی مرکزی عوامی لائبریری اور ملک کی قومی امانتی (National Depository) لائبریریوں میں سے ایک ہے۔ اس کا قیام 27 اکتوبر 1951ء میں حکومتِ ہند اور یونیسکو کے اشتراک سے ایک عوامی لائبریری منصوبے کے طور پر عمل میں آیا، جس کا افتتاح اس وقت کے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا۔ اس منصوبے کی بنیاد 1944ء میں اس وقت پڑی جب معروف صنعت کار شری رام کرشن ڈالمیہ نے جنرل سر کلاڈ آکنلیک کی درخواست پر لائبریری کی تعمیر کے لیے مالی تعاون فراہم کیا۔ 1955ء میں اس کا انتظام مکمل طور پر حکومتِ ہند کے سپرد کر دیا گیا، اور تب سے یہ ادارہ عوامی لائبریری خدمات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
دہلی پبلک لائبریری کا نیٹ ورک آج ایک مرکزی لائبریری، متعدد برانچ اور ذیلی برانچ لائبریریوں، کمیونٹی لائبریری، کالونیوں کی لائبریریوں، بریل لائبریری، موبائل لائبریری سروس اور ڈپازٹ اسٹیشنوں پر مشتمل ہے، جو دہلی بھر میں لاکھوں قارئین کو علمی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
ڈلیوری آف بکس اینڈ نیوز پیپرز (پبلک لائبریریز) ایکٹ، 1954ء کے تحت یہ ان چار قومی امانتی لائبریریوں میں شامل ہے، جنہیں ہندوستان میں شائع ہونے والی ہر کتاب اور مطبوعہ مواد کی ایک مفت کاپی موصول ہوتی ہے۔ اس خصوصیت کے باعث یہاں ہندوستان کی اشاعتی تاریخ کا ایک وسیع اور قیمتی ذخیرہ محفوظ ہوتا ہے۔ لائبریری طلبہ، محققین، لائبریری سائنس کے طلبہ اور عام قارئین کے لیے تربیتی، مطالعاتی اور معلوماتی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔
دہلی پبلک لائبریری کا مقصد صرف کتابوں کا اجرا نہیں بلکہ علم، معلومات اور ثقافتی شعور کے فروغ کے لیے ایک فعال سماجی ادارے کے طور پر خدمات انجام دینا ہے۔ یہاں لاکھوں رجسٹرڈ اراکین مطالعے، تحقیق اور علمی سرگرمیوں سے استفادہ کرتے ہیں، جبکہ اس کا آن لائن کیٹلاگ بھی قارئین کے لیے دستیاب ہے۔ اس کے گراں قدر ذخیرۂ کتب کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین اور محققین اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔