Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ezaz Afzal's Photo'

اعزاز افضل

1936 - 2005 | کولکاتا, انڈیا

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، حالاتِ حاضرہ پر قطعات نویسی کے لیے معروف

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، حالاتِ حاضرہ پر قطعات نویسی کے لیے معروف

اعزاز افضل کا تعارف

تخلص : 'افضل'

اصلی نام : سید ابوالاعزاز افضل

پیدائش : 20 Jul 1936 | کولکاتا, مغربی بنگال

وفات : 01 Jan 2005 | کولکاتا, مغربی بنگال

اعزاز افضل کا اصل نام سید ابوالاعزاز افضل ہے۔ والد کا نام سید ابوالفضل اور والدہ کا نام میمونہ خاتون ہے۔ اعزاز افضل کی ولادت 20 جولائی 1936ء کو ٹالی گنج، کولکاتا، مغربی بنگال میں ہوئی۔ انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) میں فرسٹ کلاس فرسٹ اور گولڈ مڈل حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ سی ایم او اسکول میں معلمی کی پھر ہگلی محسن کالج میں لکچرار ہوگئے۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ مولانا آزاد کالج میں ہوگیا جہاں وہ ریٹائرمنٹ تک درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ فنِ شاعری میں جناب سید ابولحسن رنگ لکھنوی سے علمِ عروض کی تکمیل کی اور حضرت پرویز شاہدی جیسے انقلابی شاعر سے اکتسابِ فیض کیا۔

اعزاز افضل کی تصنیفات اس طرح ہیں۔ (1)”زخمِ صدا“ (غزلیں)، (2) ان پڑھ آندھی (غزلیں)، (3)مقتل کی شاعری (بنگلہ ترجمہ)، (4)قلم برداشتہ (قطعات) اور (5)خد وخال (ادبی مضامین)

اعزاز افضل کو بہت سارے ایوارڈ اور اعزازات سے نوازا گیا جیسے ”زخمِ صدا“ اور ”ان پڑھ آندھی“ پر اترپردیش اردو اکاڈمی کا انعام، مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی طرف سے مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی ایوارڈ، آل انڈیا میر اکاڈمی، لکھنؤ کی طرف سے امتیازِ میر، مژگاں ایوارڈ برائے شاعری، ایجوکیشن سب کمیٹی، مسلم انسٹی ٹیوٹ، کولکاتا کی جانب سے ایوارڈ برائے تاحیاتی خدمات، اخبارِ مشرق ایوارڈ برائے تاحیاتی خدمات اور بھارتیہ بھاشا پریشد کی جانب سے اعزاز و اکرام۔

اعترافِ فن کے طور پر 1980ء میں جشنِ اعزاز افضل منایا گیا۔ سہہ ماہی ”رابطہ“، کولکاتا کی جانب سے اعزاز افضل نمبر، سہ ماہی ”مژگاں“، کولکاتا اور سہہ ماہی ”پرواز“ کولکاتا کا گوشۂ اعزاز افضل کی اشاعت ہوئی۔ اس کے علاوہ ”کلامِ اعزاز افضل“ (نعیم انیس) اور ”اعزاز افضل:فن اور فنکار“ (مرتب نعیم انیس) کی اشاعت بھی ہوئی۔

اعزاز افضل کی شاعری پر حضرت ل۔ احمد اکبر آبادی اس طرح اظہارِ خیال فرماتے ہیں۔
”دنیا بھر کے شعر و ادب کی قدریں اور معیار بدلے ہیں۔ اردو شعر و ادب میں فکری رجحان غالب ہے۔ غزل کی صورت بدل سی گئی ہے۔ پرانے موضوعاتِ غزل تقریباً متروک ہوچکے ہیں۔ افضل صاحب کی شاعری روحِ عصر سے مالامال ہے مگر انھوں نے اردو شعر کی روایاتِ شعری کو سینے سے لگائے رکھا ہے۔“

وہیں ڈاکٹر محمد حسن فرماتے ہیں کہ:
 ”اعزاز افضل کی شاعری سماجی افراتفری اور اس کے سبب فرد کے اندر گہرے کرب کی آئینہ دار ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری میں تھکن نہیں ، تازگی ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”کلکتہ کے اگر سب سے چہیتے شاعر کوئی ہیں تو وہ ہیں اعزاز افضل۔“

اعزاز افضل 01 جنوری 2005ء کو اس دنیائے فانی سے دارالبقا کی جانب کوچ کر گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے