Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hanif Fauq's Photo'

حنیف فوق

1926 - 2009 | کراچی, پاکستان

ماہرِ لسانیات، نقاد، محقق، شاعر، سابق مدیر اعلیٰ اردو لغت بورڈ

ماہرِ لسانیات، نقاد، محقق، شاعر، سابق مدیر اعلیٰ اردو لغت بورڈ

حنیف فوق کا تعارف

پیدائش : 26 Dec 1926 | بھوپال, مدھیہ پردیش

وفات : 01 May 2009 | بھوپال, مدھیہ پردیش

حنیف فوق اردو کے ممتاز نقاد، محقق،مترجم،  استاد تھے، جن کی علمی و ادبی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ وہ 26 دسمبر 1926ء کو بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد حنیف (حنیف قریشی) تھا، مگر ادبی دنیا میں وہ حنیف فوق کے نام سے معروف ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے بھوپال میں حاصل کی، بعد ازاں کانپور اور لکھنؤ سے تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے۔ طالبِ علمی ہی کے زمانے سے ان کے اندر تحقیقی اور تنقیدی شعور نمایاں تھا، جو آگے چل کر ان کی ادبی و علمی شناخت کی مضبوط بنیاد بنا۔

1950ء اور 1960ء کی دہائی میں انہوں نے اپنی سنجیدہ اور فکر انگیز تنقیدی تحریروں کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1950ء میں وہ مشرقی پاکستان منتقل ہوئے اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے وابستہ ہو گئے، جہاں انہوں نے تدریسی خدمات انجام دیں اور وہیں سے 1964ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے کراچی کا رخ کیا اور جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے، جہاں بطور پروفیسر تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیں اور بعد ازاں اسی شعبے کے چیئرمین بھی مقرر ہوئے۔ تدریس، تحقیق اور تنقید—تینوں میدانوں میں ان کی خدمات کو علمی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
1980 ء/1981ء میں انہیں انقرہ یونیورسٹی (ترکی) میں بطور وزیٹنگ پروفیسر مدعو کیا گیا۔ ترکی میں قیام کے دوران انہوں نے ترکی زبان و ادب کا گہرا مطالعہ کیا اور اس زبان پر قابلِ ذکر عبور حاصل کیا۔ ان کے لیے یہ امر اس لیے بھی سہل تھا کہ ان کے گھر 
کا ماحول ترکی زبان کے لیے سازگار تھا؛ ایک طرف طویل قیامِ ترکی اور دوسری طرف ان کی شریکِ حیات کا ترکی ہونا، جس کے باعث انہیں ترکی زبان بولنے اور سمجھنے میں کوئی خاص دقت پیش نہ آئی۔ اسی علمی و ثقافتی پس منظر میں انہوں نے ترکی شاعر فواد بایرم اوغلو کی رباعیات کا اردو زبان میں منظوم ترجمہ “چراغِ شناسائی” کے عنوان سے پیش کیا، جو ان کے بین اللسانی ادبی شعور اور تخلیقی ذوق کا نمایاں ثبوت ہے۔ اسی دوران انہوں نے ترکی زبان اور ادب سے متعلق دیگر متون کا بھی مطالعہ و تعارف اردو دنیا میں کرایا، اور ترکی زبان اور اتاترک کے موضوع پر بھی کام کیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد حنیف فوق 1995ء سے 1998ء تک اردو لغت بورڈ کے مدیرِ اعلیٰ رہے، جہاں انہوں نے اردو لغت نویسی کے اہم منصوبوں کی نگرانی کی۔ اس کے علاوہ وہ کچھ عرصہ سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی سے بھی وابستہ رہے اور ماہنامہ افکار (کراچی) کے مدیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
ان کی تصانیف میں مثبت قدریں، چراغِ شناسائی، متوازی نقوش اور ترکی زبان اور اتاترک شامل ہیں۔ اقبال اور مغربی فلسفے پر ان کی ایک اہم انگریزی تصنیف انقرہ یونیورسٹی سے شائع ہوئی، جو ان کے فکری تنوع اور بین الاقوامی علمی روابط کی مظہر ہے۔ بحیثیت نقاد ان کی شناخت ایک سنجیدہ، متوازن اور صاحبِ نظر محقق کی ہے، جنہوں نے کلاسیکی اور جدید اردو ادب دونوں پر گراں قدر تحقیقی و تنقیدی کام کیا اور ادبی مباحث کو فکری گہرائی عطا کی۔ ان کی کتاب “مثبت قدریں” اردو تنقید میں ایک معتبر اور مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
وہ شاعر بھی تھے۔ ابتدا میں نظم سے شغف رہا، بعد میں غزل کی طرف متوجہ ہوئے، تاہم ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ شائع نہ ہو سکا۔ اس کے علاوہ ان کے سینکڑوں تنقیدی مضامین مختلف ادبی رسائل میں منتشر ہیں، جو اگر کتابی صورت میں یکجا کر دیے جائیں تو اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں وہ علیل ہو گئے، تو ان کے بھائی انہیں علاج کی غرض سے بھارت کے شہر بھوپال لے گئے۔ بالآخر ڈاکٹر حنیف فوق یکم مئی 2009ء کو بھوپال، بھارت میں وفات پا گئے۔ 
تصانیف
مثبت قدریں        
چراغِ شناسائی
متوازی نقوش
ترکی زبان اور اتا ترک (اردو تحریروں میں)
غالب: نظر اور نظارہ
ترقی پسند افسانے 

 

Recitation

بولیے