اقبال خورشید کے افسانے
چھنال
مانسون کی پہلی بارش والے روز اس کا جسم درد سے اینٹھ رہا تھا، اور وہ چارپائی پر پڑی رہنا چاہتی تھی۔ صبح سے آسمان پر بادل تھے۔ وہ بے خیالی میں اس چیل کو تک رہی تھی، جو ہوا میں تیرتی معلوم ہوتی۔ کچھ دیر بعد چیل غوطہ لگا کر منظر سے غائب ہوگئی۔ وہ یوں
ایک پاگل کہانی
جب شائستہ الفاظ میں ملبوس اس کہانی کو خلق ہوئے دس برس بیت گئے، تو میں نے اسے خیالات کا نیا لباس عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ لباس کی تبدیلی کے حساس عمل کے دوران کہانی کی روح سے چھیڑ خانی سے باز رہوں گا۔ گو یہ ممکن نہیں تھا! یہ عجیب و
چاند ماموں
یہ ان بیت ہوئے دنوں کا قصہ ہے، جب تاروں بھرا آسمان ہمارا تھا۔ ہم چاند کو مٹھی میں بند کر لیتے۔ ہوائیں چکھنے کے لیے چہرہ رضائی سے باہر رکھتے۔ تاریکی میں دور کہیں مونگ پھلی والا آواز لگاتا۔ کتے کچھ دیر بھونک کر چپ ہو جاتے اور کوئی زور سے کھانستا۔ ابھی
ایک کال سینٹر ایجنٹ کی سرگزشت
اس کی موت کے تین روز بعد، یک دم اس احساس نے آن گھیرا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ میں اس امر سے واقف تھا کہ یہ جذبہ میری ذلت کا باعث بن سکتا ہے، سو میں اس سے جوجھنے لگا اور یہی سے نیستی کا آغاز ہوا۔ بدقسمتی کسی کیمیائی عمل کے دوران جنم لینے والے