Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khalid Mahmood's Photo'

خالد محمود

1948 | دلی, انڈیا

شاعر، نقاد، خاکہ نگار، مترجم، محقق اور ممتاز معلم، جنہوں نے اردو ادب اور تعلیم دونوں میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں

شاعر، نقاد، خاکہ نگار، مترجم، محقق اور ممتاز معلم، جنہوں نے اردو ادب اور تعلیم دونوں میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں

خالد محمود کا تعارف

تخلص : 'خالد'

اصلی نام : خالد محمود

پیدائش : 15 Jan 1948 | سرونج, مدھیہ پردیش

رشتہ داروں : خالد مبشر (شاگرد), مظفر حنفی (استاد)

LCCN :n89263383

 

اردو تہذیب کا انسانی پیکر 

پروفیسر خالد محمود ایک اسلوب زیست کا نام ہے۔ وہ اسلوب جس میں نفاست و نستعلیقیت بھی ہے اور ہمہ رنگی و ہمہ جہتی بھی۔ اردو، جامعہ، بھوپال اور سرونج ان کے معشوق ہیں اور جب معاملہ عشق کا ہی ٹھہرا تو پھر شدت کا گلہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عشق میں کسی بھی حد سے گذر سکتے ہیں۔ ان کے عشق کی داستان میں حسن، رزم و بزم، طلسم و سحر، کرشمہ و کرامت، محبت و فریفتگی، تمام داستانوی عناصر موجود ہیں۔ ان کا عشق ان کی تہذیب میں ڈھل گیا ہے اور یہ تہذیب ان کی شخصیت کے پیکر میں جذب ہو گئی ہے۔ چناں چہ تدریس، نظم وضبط، غزل، نظم، تنقید، تحقیق، ترجمہ، خاکہ اور انشائیہ اسی پیکرِ تہذیب کے مختلف اور دلکش مظاہر ہیں اور ان تمام کا اصرار یہ ہے کہ ہم ہی اس پیکرِ تہذیب کی اصل شناخت کے مظہر ہیں۔ ایک طالب علم سے پوچھیے تو وہ یہ کہتا ہے کہ خالد محمود بنیادی طور پر ایک مثالی معلم ہیں۔ مختلف شعبوں کے مامورین و ماتحتین کا خیال ہے کہ وہ دراصل ایک صاحب فہم و ذکا مدبر و منتظم ہیں۔ سفرنامہ نگاری کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ اس صنف کی تحقیق و تنقید کے سرخیل خالد محمود ہیں اور انھیں اس میدان میں درجۂ استناد حاصل ہے۔ غزل و نظم میں اجتماع ضدین انھیں کی فن کاری سے عبارت ہے۔ یعنی شوخی و دل سوزی ، جدت و قدامت، لفظ و معنی اور فکر و فن بیک وقت ان سب کا ایسا خلاقانہ آمیزہ حیران کن بھی ہے اور سرور انگیز بھی۔ لیکن میرا یہ خیال ہے کہ خالد محمود کا اصل جوہر خاکوں اور انشائیوں میں کھلتا ہے اور ایسا کھلتا ہے کہ میں انھیں عہدِ حاضر کا سب سے ممتاز خاکہ نگار اور انشائیہ نگار سمجھتا ہوں۔ ان میدانوں میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی غیرمعمولی ظریفانہ طبیعت کا رشتہ مشتاق احمد یوسفی، رشید احمد صدیقی اور پطرس بخاری سے ہوتے ہوئے غالبؔ تک جا ملتا ہے۔

خالد محمود کی ولادت 15؍ جنوری 1948 کو سرونج، مدھیہ پردیش کے ایک علمی خانوادے میں ہوئی۔ ان کے والد محترم احمد شاہ خان، عبید میاں کے نام سے مشہور تھے اور والدہ کا اسم گرامی سلطان جہاں بیگم تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ ریاض المدارس سرونج میں ہوئی اور اعلیٰ تعلیم حمیدیہ پوسٹ گریجویٹ گورنمنٹ کالج ، بھوپال اور سیفیہ گریجویٹ کالج، بھوپال سے حاصل کی۔ پھر انھیں شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’’اردو سفرناموں کا تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔ خالد محمود صاحب کی تدریسی خدمات کی مدت سرونج، بھوپال اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سمیت 50 برسوں پر محیط ہے۔ نہ صرف یہ کہ تقریباً 50 سال تک تدریسی خدمات انجام دیں بلکہ تعلیم و تعلّم کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے این سی ای آر ٹی کی 50 سے زائد ورک شاپس میں حصہ لیا اور تعلیم و تعلّم کا نظام اور نصاب بہتر سے بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔

وہ بہت سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے اور تمام مناصب کے ساتھ غیرمعمولی کارناموں کی مثال قائم کی۔ مثلاً بحیثیت صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک کروڑ کی مالیت پر مشتمل مرکزی وزارت برائے ثقافت، حکومتِ ہند کی جانب سے ’’ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم‘‘ کی حصولیابی، شعبے کے ترجمان سالانہ مجلے ’’ارمغان‘‘ کا اجرا اور درجنوں قومی سیمیناروں کا انعقاد انھیں کی مرہونِ منت ہے۔ خالد محمود نے بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹر مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، اس وقت کے وائس چانسلر محترم نجیب جنگ آئی اے ایس (سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی) کی سرپرستی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے چار لاکھ چالیس ہزار کتابوں کی اشاعت اس شرط کے ساتھ کرائی کہ کاپی رائٹ مکتبہ کے پاس ہی رہے گا۔ مزید یہ کہ ان کی اشاعت میں مکتبہ جامعہ کی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ آپ نے مکتبہ جامعہ کے لیے کروڑوں کی ملکیت والا قطعۂ اراضی حاصل کیا اور ایک خستہ کمرے سے مکتبہ جامعہ کا دفتر ایک شان دار دو منزلہ بلڈنگ میں منتقل کیا۔ ساتھ ہی مکتبہ جامعہ کی ممبئی شاخ کی ازسرِنو بازیابی کی۔ یہ تمام مکتبہ کی غیرمعمولی حصول یابیاں ہیں۔ اگرچہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کے بعد مکتبہ جامعہ کی حالت دن بہ دن دگرگوں ہوتی چلی گئی۔ پروفیسر خالد محمود نے بحیثیت وائس چیئرمین اردو اکادمی، دہلی، اس ادارے کی ادبی وراثت کو پورے وقار اور معیار کے ساتھ برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ وہ کوآرڈینیٹر اردو ریفریشر کورس، اکیڈمک اسٹاف کالج، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، نائب صدر ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سوسائٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، ممبر پبلی کیشن کمیٹی ، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، ممبر دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ اور ممبر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی جیسے اعلیٰ مناصب پر بھی فائز رہے اور نمایاں خدمات انجام دیں۔ 
خالد محمود کی مطبوعہ تصانیف میں ’نقوش معنی‘ (تنقیدی مضامین) 2020، ’شعر زمین‘ (شاعری) 2018، ’تفہیم و تعبیر‘ (تنقیدی مضامین) 2017، ’ادب اور صحافتی ادب‘ (تنقیدی مضامین) 2012، ’شاہ مبارک آبروؔ‘ (مونوگراف) 2007، ’شگفتگی دل کی‘ (خاکے/انشائیے) 2003، ’شعر چراغ‘ (شاعری) 2001، ’ادب کی تعبیر‘ (تنقیدی مضامین) 2001، ’شعر چراغ‘ (شاعری؍ہندی) 2001، ’تحریر کے رنگ‘ (تنقیدی مضامین) 1998، ’اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ‘ (تحقیق و تنقید) 1995 اور ’سمندر آشنا‘ (شاعری) 1982 شامل ہیں۔ ان کتابوں نے نہ صرف ادبی حلقے میں ہلچل پیدا کی بلکہ ان میں سے کچھ اس قدر مقبول بھی ہوئیں کہ ان کے ایک سے زائد ایڈیشن شائع ہوئے۔

اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابوں میں ’ابنِ صفی: شخصیت اور فن کے آئینے میں‘ بہ اشتراک خالد جاوید (2014)، ’کلیات مُلّا رموزی‘ چھ جلدیں (2013)، ’خطبات: شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ بہ اشتراک شہپر رسول (2012)، ’رابندر ناتھ ٹیگور: فکر و فن‘ بہ اشتراک شہزاد انجم (2012)، ’اردو صحافت: ماضی و حال‘ بہ اشتراک سرورالہدیٰ (2012)، اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت 2005 ، ’اردو کی نئی کتاب‘ (بارہویں جماعت کے لیے) درسیات این سی ای آر ٹی، بہ اشتراک گوپی چند نارنگ و حنیف کیفی(1989)، ’اردو کی نئی کتاب‘ (گیارہویں جماعت کے لیے) درسیات این سی ای آر ٹی ، بہ اشتراک گوپی چند نارنگ و حنیف کیفی (1986)، ’عبداللطیف اعظمی: حیات و خدمات‘ (1985) اور ’جائزے۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ‘ (تبصرے) بہ اشتراک مظفر حنفی (1984) شامل ہیں۔ 
بحیثیت مترجم بھی خالد محمود کی خدمات نمایاں ہیں اور ان کے تراجم میں ’تاپسی‘ (ناول) از کُسُم اَلنسَل 2003، ’قصائی باڑہ‘ (کہانیاں) از اجیت کور 2002، ’کالے کنویں‘ (کہانیاں) از اجیت کور 2000، ’گوری‘ (ناول) از اجیت کور 2000 اور ’ماحول کے ذریعے تعلیم‘ (تعلیمات) برائے این سی ای آر ٹی شامل ہیں۔ اجیت کور کے ناول ’’گوری‘‘ کے ترجمے پر انھیں ساہتیہ اکادمی، دہلی کے باوقار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 
خالد محمود کے مضامین موقر رسائل و اخبارات میں کثرت سے شائع ہوئے ہیں۔ مختلف کتابوں، رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے مضامین کی تعداد تقریباً 200 ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ماہنامہ ایوان اردو، بچوں کے ماہنامہ امنگ، ماہنامہ کتاب نما اور بچوں کے ماہنامہ پیام تعلیم کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے ہیں۔

اردو ادب کی نامور اور مشہور و معروف ہستیوں نے خالد محمود کی ان گوناگوں خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ادبی حلقوں میں خالد محمود کی قدر و منزلت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں سہ ماہی انتساب، ماہنامہ شگوفہ اور ماہنامہ اردو ہلچل جیسے موقر رسائل نے ضخیم ’’خالد محمود نمبر‘‘ شائع کیے۔ ساتھ ہی سیفی سرونجی نے خالد محمود کی شخصیت اور فن کے تعلق سے تین کتابیں لکھیں۔ اس کے علاوہ خالد محمود کی شخصیت اور ان کے فن کے حوالے سے مختلف کتابوں اور اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کی تعداد 60 سے بھی زیادہ ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر حال ہی میں ’’خالد محمود: شخصیت اور ادبی خدمات‘‘ کے نام سے سیفی سرونجی اور استوتی اگروال نے تقریباً 532 صفحات پر مشتمل کتاب ترتیب دی ہے۔ 
خالد محمود نے نہ صرف ادبی دنیا میں اپنی مستند شناخت قائم کی، بلکہ ان کی گوناگوں عملی و ادبی خدمات کے باوصف کا قد ایسا بلند رتبہ ہوا کہ تقریباً60سے زیادہ کتابوں کے مصنفین و مرتبین نے اپنی تخلیقات پر مقدمے، دیباچے، پیش لفظ اور فلیپ کی شکل میں ان سے مہر ثبت کروائی اور دس سے بھی زیادہ ادیبوں نے اپنی کتابیں ان کے نام معنون کیں۔

خالد محمود کی ان متنوع خدمات کے اعتراف میں انھیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے ترجمہ 2005، کل ہند میر تقی میرایوارڈ برائے شاعری 2010، دہلی اردو اکیڈمی ایوارڈ برائے شاعری 2018، غالب انسٹی ٹیوٹ کے ’’غالب ایوارڈ‘‘ برائے اردو نثر 2019، دہلی اقلیتی کمیشن ایوارڈ برائے فروغ اردو 2019، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال کے کل ہند جوہر قریشی ایوارڈ برائے ’’نقوش معنی‘‘ 2020 جیسے نمایاں اور موقر انعامات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد غیرسرکاری اداروں اور تنظیموں کے ذریعے بھی آپ کو انعام و اکرام سے سرفراز کیا گیا۔

خالد محمود کے فکری تنوع کی ایک بڑی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ آپ کا تجربہ نہایت ہی وسیع اور مشاہدہ بہت ہی عمیق ہے۔ اور یہ تجربہ صرف کتابیں پڑھ کر یا کسی سے سن کر حاصل نہیں ہوا کہ بلکہ اس کے حصول میں خود خالد محمود نے دنیا کی گرد چھانی اور متعدد غیر ملکی اسفار کیے،جن میں سعودی عرب، کینیڈا، ماریشس، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے متعدد شہروں کی سیاحت کے ساتھ یورپ کے بھی کئی ممالک جیسے لندن، پیرس، نیدرلینڈ، بلجیم، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، آسٹریا، لینسی ڈاؤن، وینس، فلورینس، پی زا، روم، اٹلی اور ویٹی کن سٹی وغیرہ کی بھی سیر کی۔

موضوعات

Recitation

بولیے