خواجہ جاوید اختر کا تعارف
تخلص : 'جاوید'
پیدائش : 02 Sep 1964 | مغربی بنگال
وفات : 13 Jul 2013 | الہٰ آباد, اتر پردیش
LCCN :n2016245383
خواجہ جاوید اختر 02 ستمبر 1964 کو کانکی نارہ، 24 پرگنہ، مغربی بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ شریف الحسن ہے۔ انھوں نے 1989 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل، اتر پردیش، الہ آباد کے دفتر میں سینئر اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کیا۔ انھوں نے 1985ء میں شعرگوئی کا آغاز کیا۔ ان کی غزلوں کا مجموعہ ”نیند شرط نہیں“ 2010 میں شائع ہوا تھا۔ ہندی کے سہ ماہی رسالہ ”اُنّیان“ الہ آباد کے مہمان مدیر کے طور پر انھوں نے ہندوستان کے 25 نامور اردو شاعروں کی غزلوں کا انتخاب بھی مرتب کیا تھا۔ خواجہ جاوید اختر کے شعری مجموعہ ”نیند شرط نہیں“ پر مغربی بنگال اردو اکاڈمی، بہار اردو اکاڈمی اور اترپردیش اکاڈمی نے انعامات بھی دیئے تھے۔ انھیں پریاگ بھارتیہ پریشد ایوارڈ اور بہادر شاہ ظفر ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا تھا۔ ان کی غزلیں ہندوستان اور بیرونِ ملک کے مختلف ادبی اردو رسائل میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہتی تھیں۔
خواجہ جاوید اختر کی غزل گوئی پر ممتاز ناقد شمس الرحمٰن فاروقی اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”خواجہ جاوید اختر کے شعر کا لہجہ عام گفتگو پر مبنی ہے۔ ایسا شعر بہت کچھ کر دکھاتا ہے اگر تک بندی کی طرف نہ جھک جائے۔ عام بول چال پر مبنی اور سہلِ ممتنع کے انداز کا شعر زندگی کے کسی نہ کسی پہلو پر طنز یا قولِ محال، یا تضاد کے ذریعہ روشنی ڈالے تو ہم شاعر کے شکرگزار ہوتے ہیں۔ ورنہ تھوڑی ہی دیر کے بعد بیزاری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن خواجہ جاوید اختر کی خوبی اس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ وہ باتوں باتوں میں چبھتی ہوئی بات کہہ جاتے ہیں جو عقل مندی سے بھرپور ہوتی ہے۔“
خواجہ جاوید اختر کا انتقال 13 جولائی 2013 میں الہ آباد، اترپریش میں ہوا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n2016245383