خدا بخش لائبریری، پٹنہ کا تعارف
خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، ہندوستان کی قومی اہمیت کی حامل ممتاز لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد معروف علم دوست مولوی محمد بخش کے ذاتی ذخیرۂ مخطوطات سے پڑی، جسے ان کے صاحبزادے خان بہادر خدا بخش نے وسعت دی۔ اپنے والد سے وراثت میں ملنے والے 1,400 مخطوطات میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس ذخیرے کو ایک عظیم عوامی لائبریری کی شکل دی، جس کا باقاعدہ افتتاح 29 اکتوبر 1891ء کو عوام کے لیے کیا گیا۔ آج یہ ادارہ وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے تحت ایک خودمختار قومی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے اور خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری ایکٹ، 1969ء کے تحت اسے قومی اہمیت کے ادارے کا درجہ حاصل ہے۔
لائبریری مشرقی علوم، اسلامیات، تاریخ، ادب اور فنون سے متعلق اپنے نادر ذخیرے کی بدولت عالمی شہرت رکھتی ہے۔ یہاں عربی، فارسی، اردو، ترکی اور پشتو زبانوں کے 21,000 سے زائد نادر مخطوطات محفوظ ہیں، جن میں شاہ نامہ، پادشاہ نامہ، تیمور نامہ، دیوانِ حافظ، سفینۃ الاولیاء اور صحیح بخاری کے نایاب قلمی نسخے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مغلیہ اور راجپوت عہد کی مصوری، خطاطی، کتاب آرائی کے نمونے، ہرن کی کھال پر تحریر کردہ قرآنِ مجید کا ایک ورق اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے فوجی حسابات جیسے تاریخی نوادر بھی اس ذخیرے کا حصہ ہیں۔
خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کو قومی مشن برائے مخطوطات کے تحت مخطوطات تحفظ مرکز (Manuscript Conservation Centre) کا درجہ بھی حاصل ہے۔ یہ ادارہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے دنیا بھر کے محققین، طلبہ اور اہلِ علم کے لیے تحقیق کا ایک معتبر مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کے گراں قدر ذخیرۂ کتب کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین اور محققین اس عظیم علمی ورثے سے آن لائن استفادہ کر سکتے ہیں۔