Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khwaja Ahmad Abbas's Photo'

خواجہ احمد عباس

1914 - 1987 | ممبئی, انڈیا

مشہور فکشن نگار، صحافی، پدم شری، ہدایت کار، مکالمہ نویس، شری 420 اور میرا نام جوکر جیسی فلموں کے لیے مشہور

مشہور فکشن نگار، صحافی، پدم شری، ہدایت کار، مکالمہ نویس، شری 420 اور میرا نام جوکر جیسی فلموں کے لیے مشہور

خواجہ احمد عباس کا تعارف

تخلص : 'خواجہ احمد عباس'

اصلی نام : احمد عباس

پیدائش : 07 Jun 1914 | پانی پت, ہریانہ

وفات : 01 Jun 1987 | ممبئی, مہاراشٹر

LCCN :n50041750

شناخت: بین الاقوامی شہرت یافتہ بھارتی فلم ڈائریکٹر، اسکرین رائٹر، ناول نگار، مایہ ناز صحافی اور اردو، ہندی و انگریزی کے ترقی پسند ادیب

برصغیر کی ادبی، صحافتی اور فلمی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے ہمہ جہت کارناموں کے ذریعے تاریخ میں ایک مستقل اور روشن مقام حاصل کیا۔ خواجہ احمد عباس انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں سے ایک ہیں، جن کی شخصیت بیک وقت ادب، صحافت اور سنیما کے میدانوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک باکمال افسانہ نگار اور ناول نگار تھے بلکہ ایک بلند پایہ صحافی، فلم ڈائریکٹر، اسکرین رائٹر اور ترقی پسند مفکر بھی تھے۔ اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں پر یکساں عبور نے ان کی شخصیت کو مزید وسعت عطا کی۔

خواجہ احمد عباس 7 جون 1914ء کو پانی پت میں ایک علمی و ادبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی علمی روایت نہایت مضبوط تھی۔ ان کے پرنانا مولانا الطاف حسین حالی اردو ادب کے عظیم شاعر اور نقاد تھے۔ آپ کے دادا خواجہ غلام عباس جنگِ آزادی 1857ء کے پہلے شہید تھے۔ خواجہ احمد عباس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب اور قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 'نیشنل کال' سے کیا اور جلد ہی The Bombay Chronicle سے وابستہ ہو گئے، جہاں انہوں نے بطور نامہ نگار اور فلم نقاد خدمات انجام دیں۔ ان کا مشہور کالم  “Last Page” صحافت کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو کئی دہائیوں تک جاری رہا اور بعد میں Blitz میں بھی شائع ہوتا رہا۔ اس کالم نے انہیں غیر معمولی شہرت اور مقبولیت عطا کی۔ انہوں نے دنیا کی کئی عظیم شخصیات، جیسے فرینکلن ڈی روزویلٹ اور نکیتا خروشیف کے انٹرویوز بھی کیے، جو ان کی صحافتی بصیرت کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے اپنی زندگی میں 74 کتابیں، 90 افسانے اور 3000 سے زائد اخباری مضامین تحریر کیے۔ آپ کا ناول 'انقلاب' ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

فلمی دنیا میں خواجہ صاحب ایک مصلح اور حقیقت نگار کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے 1946ء میں قحطِ بنگال پر مبنی فلم 'دھرتی کے لال' بنائی جو بھارتی سنیما کی پہلی سماجی حقیقت پسندانہ فلم مانی جاتی ہے اور جس نے روسی مارکیٹ کے دروازے بھارتی فلموں کے لیے کھولے۔ انہوں نے 'نیچا نگر' جیسی فلم لکھی جسے کانز فلم فیسٹیول میں 'پالم ڈی اور' (Palme d'Or) ایوارڈ ملا۔ وہ راج کپور کی شاہکار فلموں 'آوارہ'، 'شری 420'، 'میرا نام جوکر' اور 'بوبی' کے اسکرین رائٹر بھی تھے۔ فلم 'سات ہندوستانی' کے ذریعے انہوں نے امیتابھ بچن کو پہلی بار پردہ سیمیں پر متعارف کرایا۔ ان کی فلموں 'شہر اور سپنا' اور 'دو بوند پانی' نے قومی یکجہتی پر بہترین فیچر فلم کے نیشنل ایوارڈز جیتے۔ ان کو حکومتِ ہند کی جانب سے 1969ء میں 'پدم شری' سے بھی نوازا گیا۔

وہ ایک سچے قوم پرست اور ترقی پسند مفکر تھے جنہوں نے فلمی سنسر شپ کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں ایک تاریخی آئینی جنگ بھی لڑی۔ ان کی خودنوشت "I Am Not an Island" ان کی زندگی اور جدوجہد کی مکمل داستان ہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں دل کے دورے اور فالج کے حملے کے باوجود انہوں نے قلم سے رشتہ برقرار رکھا اور آخری وقت تک تخلیقی کاموں میں مصروف رہے۔

وفات: یکم جون 1987ء کو 72 برس کی عمر میں بمبئی (ممبئی) میں انتقال ہوا اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔

Recitation

بولیے