مخمور جالندھری کا تعارف
مشہور ناول نگار، اُردو شاعر اور مترجم مخمور جالندھری کی پیدائش 29 مئی 1915 کو پنجاب میں جالندھر کے علاقے لال کورتی میں ہوئی۔ اُن کا اصل نام گور بخش سنگھ تھا اور ان کے والد کا نام کیسر سنگھ تھا۔ بچپن سے ہی اُردو ادب سے وابستگی کے سبب وہ شاعری کرنے لگے۔ دل شاہجہاں پوری اور سیماب اکبر آبادی سے اصلاح سخن لی۔ 1938 میں اُن کی شادی دمینتی دیوی سے ہوئی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ذریعۂ معاش کے لیے انہوں نے آل انڈیا ریڈیو جالندھر کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا۔ ان کے ڈرامے بہت مقبول ہوئے۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے تقریباً 250 ڈرامے لکھے۔ اس دوران انہوں نے ترقی پسند مصنفین کی تنظیم میں بھی شمولیت اختیار کی۔ کافی مالی مشکلات کی وجہ سے وہ 1958 میں جالندھر چھوڑ کر دہلی میں مقیم ہوئے۔ دلّی میں وہ حلقۂ اربابِ ذوق سے جڑے جس میں میرا جی، قیوم نظر، فکر تونسوی، پرکاش پنڈت اور بلراج کومل جیسے شعرا شامل تھے اور اُن کے ساتھ رہتے ہوئے اُردو کی تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ کچھ عرصے تک انہوں نے اس وقت کے مشہور اردو روزنامہ ’’ملاپ‘‘ کے لیے کام کیا اور بعد ازاں کچھ عرصہ کے لئے انہوں نے روسی ادب کے تراجم پر بھی کام کیا۔ اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی گھریلو اخراجات کے لیے ناکافی تھی اور اس کے سبب وہ جلد سگریٹ اور شراب کے عادی ہو گئے۔ ان حالات میں انہوں نے کرنل ’’رنجیت سنگھ‘‘ کے قلمی نام سے ہند پاکٹ بک کے لیے جاسوسی ناول لکھنا شروع کیے اور جاسوس ’’میجر بلونت‘‘ کے کردار کو تخلیق کیا، جس سے اُن کی مقبولیت پورے ملک میں ہو گئی۔ یہ تصانیف ہندی میں بھی شائع ہوئیں۔ اُن کے مجموعے ’’جلوہ گاہ‘‘ ’’تلاطم‘‘ ’’مختصر نظمیں‘‘ اور ’’پھلجھڑیاں‘‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ شراب نوشی کے سبب وہ جگر کی خرابی کے شکار ہوئے اور 01 جنوری 1979 کو اُن کا انتقال ہو گیا۔