محشر آفریدی کے اشعار
زمیں پر گھر بنایا ہے مگر جنت میں رہتے ہیں
ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم بھارت میں رہتے ہیں
مجھے جس حال میں چھوڑا اسی حالت میں پاؤگی
بڑی ایمانداری سے تمہارا ہجر کاٹا ہے
میں اس لیے بھی ہمیشہ خموش رہتا ہوں
مرے دماغ میں اک شور مچتا رہتا ہے
عقل اور عشق لڑتے رہے دیر تک
عقل ماری گئی عشق زندہ رہا
تمہارے حسن کو کب تک ورق ورق پڑھتے
سو ایک رات میں پوری کتاب پڑھ ڈالی
وہ کچھ غلط نہیں تھا ہمیں بےوقوف تھے
شیشے کو صاف کرتے رہے اس طرف سے ہم
اس کی مغرور ہوا تیز قدم چلتی رہی
لو لرزتی ہی رہی میری پشیمانی کی
یوں محبت کا بدل کچھ بھی نہیں
سوچتا ہوں اتنا حق دے دوں تمہیں
وصال یار فرقتوں کی رت بدل نہیں رہا
بدن قرار پا گیا ہے دل سنبھل نہیں رہا