Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Miraash's Photo'

نئی نسل کے ابھرتے ہوئے شاعروں میں شامل

نئی نسل کے ابھرتے ہوئے شاعروں میں شامل

مراش کے اشعار

45
Favorite

باعتبار

گھر پلٹ کر جو مری روشن خیالی آئی ہے

شور ہے شہر سخن میں پھر دیوالی آئی ہے

جو میرے بننے سے پہلے اک انتظار بنا

اس انتظار کے اندر میں بار بار بنا

گرد آئنوں کی چاروں طرف ہے جمی ہوئی

عالم عجیب شیشہ گری کی دکان ہے

اسی کفن سے نہ ڈھک جائے سارا شہر کہیں

مرا جنازہ پرندے اٹھائے پھرتے ہیں

سنگ پر سنگ رگڑنے سے ہوا جو پیدا

اسی آہنگ نے رقص شرر ایجاد کیا

تھی کل دیار عشق میں عید الضحیٰ مراشؔ

ہم کیا گلا کٹاتے عجب بھیڑ چال تھی

نقش و نگار حسن حقیقی بھی شے ہے کیا

پلکیں تری لگا لیں اگر مو قلم میں ہم

کھنک رہا ہوں میں نشے میں چابیوں کی طرح

کھلی ہے پیاس مگر میکدے پہ تالا ہے

اس بدن پر کہیں تو ہوگا ضرور

میرے ہونٹوں کے ناپ کا کوئی زخم

سنگ پر سنگ رگڑنے سے ہوا جو پیدا

اسی آہنگ نے رقص شرر ایجاد کیا

کس گردش پیہم میں مرا شعلۂ دل ہے

جلتا ہے لہو روغن خورشید کی صورت

خطوط آگ میں جلتے ہیں اور سیخوں پر

کسی کا دل تو جگر ہے کسی پرندے کا

طلب ظل الٰہی کیا کریں اس یار کا سایہ

گلی میں جس کی ڈھونڈھے ہے ہما دیوار کا سایہ

دل کی زمین پر مری عشق ہے دشت دائمی

ہجر و وصال سب کے سب موسمیاتی حادثے

ہم دل ہی دل میں اس پہ اٹھا لیتے کچھ سوال

لیکن غیوب میں بھی وہ حاضر جواب ہے

کبھی میں بن نہ سکا لاکھ کوششوں کے بعد

مگر جو بننے لگا پھر تو بار بار بنا

عشق اک دم کر دیا اس نے حلال

ہاتھ جس غصے سے جھٹکا ہے ابھی

آتش کدے میں تھا مرے الفاظ کا دھواں

تکیے میں اس کے میرے کبوتر کے پر ملے

Recitation

بولیے