مراش کے اشعار
گھر پلٹ کر جو مری روشن خیالی آئی ہے
شور ہے شہر سخن میں پھر دیوالی آئی ہے
جو میرے بننے سے پہلے اک انتظار بنا
اس انتظار کے اندر میں بار بار بنا
گرد آئنوں کی چاروں طرف ہے جمی ہوئی
عالم عجیب شیشہ گری کی دکان ہے
اسی کفن سے نہ ڈھک جائے سارا شہر کہیں
مرا جنازہ پرندے اٹھائے پھرتے ہیں
سنگ پر سنگ رگڑنے سے ہوا جو پیدا
اسی آہنگ نے رقص شرر ایجاد کیا
تھی کل دیار عشق میں عید الضحیٰ مراشؔ
ہم کیا گلا کٹاتے عجب بھیڑ چال تھی
نقش و نگار حسن حقیقی بھی شے ہے کیا
پلکیں تری لگا لیں اگر مو قلم میں ہم
کھنک رہا ہوں میں نشے میں چابیوں کی طرح
کھلی ہے پیاس مگر میکدے پہ تالا ہے
سنگ پر سنگ رگڑنے سے ہوا جو پیدا
اسی آہنگ نے رقص شرر ایجاد کیا
کس گردش پیہم میں مرا شعلۂ دل ہے
جلتا ہے لہو روغن خورشید کی صورت
خطوط آگ میں جلتے ہیں اور سیخوں پر
کسی کا دل تو جگر ہے کسی پرندے کا
طلب ظل الٰہی کیا کریں اس یار کا سایہ
گلی میں جس کی ڈھونڈھے ہے ہما دیوار کا سایہ
دل کی زمین پر مری عشق ہے دشت دائمی
ہجر و وصال سب کے سب موسمیاتی حادثے
ہم دل ہی دل میں اس پہ اٹھا لیتے کچھ سوال
لیکن غیوب میں بھی وہ حاضر جواب ہے
کبھی میں بن نہ سکا لاکھ کوششوں کے بعد
مگر جو بننے لگا پھر تو بار بار بنا