ناطق گلاوٹھی
غزل 45
اشعار 110
تم ایسے اچھے کہ اچھے نہیں کسی کے ساتھ
میں وہ برا کہ کسی کا برا نہیں کرتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کیا ارادے ہیں وحشت دل کے
کس سے ملنا ہے خاک میں مل کے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کس کو مہرباں کہئے کون مہرباں اپنا
وقت کی یہ باتیں ہیں وقت اب کہاں اپنا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ظاہر نہ تھا نہیں سہی لیکن ظہور تھا
کچھ کیوں نہ تھا جہان میں کچھ تو ضرور تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہمارے عیب میں جس سے مدد ملے ہم کو
ہمیں ہے آج کل ایسے کسی ہنر کی تلاش
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
جے کرشن چودھری حبیب
-
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
-
جمیلہ خدا بخش
-
ساحر لدھیانوی
-
منور لکھنوی
-
میلہ رام وفاؔ
-
حسرتؔ موہانی
-
علامہ اقبال
-
احمد فراز
-
منشی نوبت رائے نظر لکھنوی
-
فیض احمد فیض
-
امداد امام اثر
-
عبد الحمید عدم
-
مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی
-
نوح ناروی
-
طالب باغپتی
-
صفدر مرزا پوری
-
میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
-
بیخود موہانی
-
فضل حسین صابر