نصرت صدیقی کے اشعار
کس ضرورت کو دباؤں کسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں تو جیسا بھی ہوں سب لوگ مجھے جانتے ہیں
تیرے بارے میں بھی اک بات سنی ہے میں نے
-
موضوع : الزام
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ سارے ہارنے والے بھی میرے اپنے ہیں
کہیں میں رو نہ پڑوں تالیاں بجاتے ہوئے
بہت سستے میں انساں بک رہے ہیں
ہمارے ہاں تو مہنگائی نہیں ہے
میں تیرے تعاقب میں کہاں تک چلا آیا
کعبہ مرے پیچھے نہ کلیسا مرے آگے
تمہیں بھی ہے اگر دعویٰ وفا کا
تو پھر کوئی بھی ہرجائی نہیں ہے
کم ہی نہیں ہوئے ترے بارے میں تبصرے
گنجائشیں بہت ہیں ترے خد و خال میں