رامپور رضا لائبریری، رام پور کا تعارف
رضا لائبریری، رام پور کا شمار ہندوستان کے ممتاز علمی و تحقیقی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد 1774ء میں ریاستِ رام پور کے بانی نواب فیض اللہ خان نے اپنے ذاتی ذخیرۂ مخطوطات، نادر کتابوں اور اسلامی خطاطی کے نمونوں کی بنیاد پر رکھی۔ بعد کے نوابینِ رام پور نے بھی اہلِ علم، شعرا، خطاطوں، مصوروں اور موسیقاروں کی سرپرستی کرتے ہوئے اس ذخیرے میں مسلسل اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ برصغیر کے اہم ترین علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ لائبریری کا موجودہ نام نواب رضا علی خان بہادر کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔
1857ء کے بعد جب برصغیر کے متعدد شاہی اور نجی کتب خانے منتشر یا تباہ ہو گئے، تو رضا لائبریری نے بے شمار نادر مخطوطات اور علمی نوادر کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1957ء میں اس کے ذخیرے کو حمید منزل منتقل کیا گیا، جہاں یہ آج بھی قائم ہے۔ 1975ء میں رضا لائبریری ایکٹ کے تحت اسے حکومتِ ہند کے محکمۂ ثقافت کے زیرِ انتظام ایک خودمختار ادارے کی حیثیت حاصل ہوئی، جبکہ وزارتِ تعلیم نے اسے قومی اہمیت کی حامل لائبریری قرار دیا۔ یہ ادارہ قومی مشن برائے مخطوطات کے تحت مخطوطات تحفظ مرکز (Manuscript Conservation Centre) کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
رضا لائبریری میں عربی، فارسی، اردو، سنسکرت، ہندی، پشتو، ترکی، تمل اور دیگر زبانوں کے ہزاروں نادر مخطوطات، تاریخی دستاویزات، اسلامی خطاطی کے شاہکار، منی ایچر مصوری، فلکیاتی آلات اور نادر مطبوعات محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ہزار مطبوعہ کتابوں اور رسائل کا وقیع ذخیرہ بھی موجود ہے۔ یہ علمی سرمایہ اسلامیات، تاریخ، ادب، فنون، فلسفہ اور مشرقی علوم کے محققین کے لیے ایک نہایت اہم تحقیقی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس گراں قدر ذخیرۂ کتب و مخطوطات کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین، طلبہ اور محققین اس نادر علمی و ثقافتی ورثے سے آن لائن استفادہ کر سکتے ہیں۔