ساحل سحری کا تعارف
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر
سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
رحیم خان ساحل سحریؔ کی پیدائش 1949ء میں نینی تال میں معروف شاعر رحمت علی خان احقر دہلوی کے گھرمیں ہوئی۔ کم عمری ہی میں والدین اور بزرگوں کا سایہ اٹھ جانے کے باعث انہیں زندگی کے تلخ تجربات سے بہت جلد گزرنا پڑا۔ انہوں نے دس برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شاعری نے کماؤں کے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنائی۔
ساحلؔ کی شاعری میں زندگی کے المیے، انسانی بے بسی، تنہائی، خواب، اداسی اور عصری مسائل کی گہری بازگشت ملتی ہے۔ ان کا شعری لہجہ گمبھیر، تہہ دار اور منفرد ہے، جس میں اداسی کے ساتھ ہلکا سا طنزیہ رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے یہاں زندگی کی تلخیوں کے باوجود سچائی اور زندگی کو بہتر بنانے کی جستجو ہمیشہ نمایاں رہی۔
ساحلؔ کو اپنے عہد کے ادبی حلقوں میں دوستوں اور بزرگوں کی محبت اور پذیرائی حاصل رہی۔ معروف شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی ’سحر‘ نے بھی انہیں اولاد کی طرح عزیز رکھا۔ ساحلؔ کی شاعری روایت سے جڑی ہوئی جدید شاعری ہے، جس میں ان کا اپنا لہجہ، مخصوص لفظیات اور منفرد طرزِ فکر نمایاں ہے۔ وہ فرد اور معاشرے کے مسائل، انسانی زندگی کی پیچیدگیوں اور اپنے عہد کے المیوں کا گہرا شعور رکھتے تھے اور اپنی شاعری کے ذریعے زندگی کی ناہمواریوں سے مسلسل نبرد آزما نظر آتے ہیں۔
ان کا شمار وادیِ کوہسار کے ان شاعروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے منفرد لہجے اور عصری حسیت کے ذریعے اردو شاعری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔