Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sahil Sahri's Photo'

ساحل سحری

1949 - 2012 | نینیتال, انڈیا

معروف شاعر، گہرے شعور اور جدید شعری حسیت کے لیے معروف

معروف شاعر، گہرے شعور اور جدید شعری حسیت کے لیے معروف

ساحل سحری کا تعارف

تخلص : 'ساحل'

اصلی نام : رحیم خان

پیدائش : 04 Nov 1949 | نینیتال, اتراکھنڈ

وفات : 09 Jul 2012

میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر

سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا

رحیم خان ساحل سحریؔ کی پیدائش 1949ء میں نینی تال میں معروف شاعر رحمت علی خان احقر دہلوی کے گھرمیں ہوئی۔ کم عمری ہی میں والدین اور بزرگوں کا سایہ اٹھ جانے کے باعث انہیں زندگی کے تلخ تجربات سے بہت جلد گزرنا پڑا۔ انہوں نے دس برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ ان کی شاعری نے کماؤں کے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنائی۔

ساحلؔ کی شاعری میں زندگی کے المیے، انسانی بے بسی، تنہائی، خواب، اداسی اور عصری مسائل کی گہری بازگشت ملتی ہے۔ ان کا شعری لہجہ گمبھیر، تہہ دار اور منفرد ہے، جس میں اداسی کے ساتھ ہلکا سا طنزیہ رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے یہاں زندگی کی تلخیوں کے باوجود سچائی اور زندگی کو بہتر بنانے کی جستجو ہمیشہ نمایاں رہی۔

ساحلؔ کو اپنے عہد کے ادبی حلقوں میں دوستوں اور بزرگوں کی محبت اور پذیرائی حاصل رہی۔ معروف شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی ’سحر‘ نے بھی انہیں اولاد کی طرح عزیز رکھا۔ ساحلؔ کی شاعری روایت سے جڑی ہوئی جدید شاعری ہے، جس میں ان کا اپنا لہجہ، مخصوص لفظیات اور منفرد طرزِ فکر نمایاں ہے۔ وہ فرد اور معاشرے کے مسائل، انسانی زندگی کی پیچیدگیوں اور اپنے عہد کے المیوں کا گہرا شعور رکھتے تھے اور اپنی شاعری کے ذریعے زندگی کی ناہمواریوں سے مسلسل نبرد آزما نظر آتے ہیں۔

ان کا شمار وادیِ کوہسار کے ان شاعروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے منفرد لہجے اور عصری حسیت کے ذریعے اردو شاعری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔

موضوعات

Recitation

بولیے