سلام بن رزاق کے ذریعے کیے گئے تراجم
مکتی
جی اے کلکرنی
سامنے گہرے سبز رنگ کا پہاڑ گویا کسی کے انتظار میں کھڑا تھا۔ پہاڑ سے اوپر کو جاتا راستہ یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے کوئی سفید سانپ لہراتا چلا جا رہا ہو۔ زخموں سے سلگتے ہوئے اپنے جسم کو اس نے ایک چٹان سے ٹکایا اور دل برداشتہ ساوہیں بیٹھ گیا۔ اتنا عرصہ ہوگیا
سوامی
جی اے کلکرنی
پیڑوں کی پھنگیوں میں اٹکتا ہوا سورج سامنے ٹیکری کے پیچھے چھپ گیا اور اچانک چاروں طرف ایک دھند سی چھا گئی۔ اس کے پیروں کے نیچے وہ پکڈنڈی کسی عظیم الجثہ اژدھے کی مانند بےحس و حرکت پڑی تھی۔ ساتھ ہی اسے احساس بھی ہو گیا کہ اس نے پیدل راستے سے آکر غلطی کی
پرساد
جی اے کلکرنی
بائیں طرف نیل گری کے اونچے اور گھنے درختوں کے سایوں میں پچھلی شاہراہ سے وہ مندر کی سمت جانے والی پگڈنڈی پر مڑ گیا۔ اس وقت چاروں طرف گہری نیلی دھند پھیلی ہوئی تھی اور جگہ جگہ بکھری خود رو جھاڑیوں کے جھنڈ دھندلی پرچھائیوں کی طرح غیرواضح لگ رہے تھے۔ لیکن
غلام
جی اے کلکرنی
اُن تنگ وتاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے مسافرکو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی مردہ جانور کی سڑی گلی آنت میں سے آگے کو سرکتا جا رہا ہے۔ چلتے چلتے اس کے پاؤں شل ہو گئے تھے۔ اس نے ایک ایک راستہ ایک ایک گلی چھان ڈالی تھی، جیسے کوئی الجھے ہوئے دھاگوں کو ایک
دیمک
رام کمار
ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو اپنے والد سے ناراض ہو کر ایک شہر میں ملازمت کرنے چلا آیا تھا۔ وہ اپنے والد کی عادتوں سے پہلے بھی نالاں تھا اور ماں کے انتقال کے بعد جب ایک دن وہ گرفتار ہو گئے تو اس کی نفرتوں میں اضافہ ہو گیا۔ جس دن وہ رہا ہو کر واپس آئے اسی دن وہ معمولی سا سامان لے کر گھر سے نکل پڑا اور اس کے والد اس کو روکنے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔ آٹھ سال بعد اچانک وہ بیٹے کے کمرے پر پہنچ جاتے ہیں اور بارہ دن رک کر اچانک ایک دن چلے جاتے ہیں۔ بیٹے کو کمرے میں رکھے ہوئے خط سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ماں کی وہ صندوقچی دینے آئے تھے جس میں اس کے گہنے رکھے ہوئے تھے اور بچپن میں جب وہ ماں سے ان گہنوں کو دیکھنے کی ضد کیا کرتا تھا تو ماں کہتی تھی تیری دلہن کے لیے ہی تو ہیں۔