Saulat Public Library, Rampur (U. P.)'s Photo'

صولت پبلک لائبریری، رامپور (یو۔ پی۔)

رام پور, انڈیا

صولت پبلک لائبریری، رامپور (یو۔ پی۔) کا تعارف

ریاستی پیریڈ میں ''رامپور رضالائبریری'' سے استفادہ عام نہیں تھا، اس لیے ایک پبلک لائبریری کی ضرورت محسوس کی گئی، جس سے عوام مستفید ہوسکیں، اسی کے پیش نظر رام پور کے عوامی رہنما صولت علی خان نے ۲۱دسمبر۱۹۳۴ کو محلہ راج دوارہ میں افسر علی کی کوٹھی میں ایک ''کتب خانۂ عام'' کا قیام کیا، جو صرف کتب خانہ نہیں، بلکہ رام پور کی ثقافتی اورتہذیبی زندگی کی علامت بھی تھا، لائبریری کی پرانی کتابوں پر آج بھی ''کتب خانۂ عام'' کی مہر موجود ہے، کچھ وقت بعد جگہ کی قلت کی وجہ سے لائبریری کو صفدر جنگ بازار میں شہزادہ وجّن خان کے مکان میں (جہاں اب شاداب مارکیٹ ہے) منتقل کردیا گیا،۱۹مارچ۱۹۳۵ میں ایک عوامی جلسے میں قرارداد منظور کرکے اس لائبریری کو ''صولت پبلک لائبریری'' کا نام دیا گیا، لائبریری کے مؤسس صولت علی خان کے دعوت نامہ پر نواب رضا علی خان نے لائبریری کا دورہ کیا، یہاں پر بھی جگہ کوئی خاص کشادہ نہیں تھی، اس لیے نواب رضا علی خان نے جامع مسجد رام پور کے قریب حضور تحصیل کی بالائی عمارت لائبریری کو الاٹ کردی، ۱۹۵۷ میں حکومت اتر پردیش نے لائبریری اور اس سے متصل عمارت کو لائبریری کی ملکیت تسلیم کرلیا، لیکن یہ ادارہ مستحق ہونے کے باوجود روز اول سے ارباب اقتدار کی غفلت کا شکار رہا ہے، البتہ شہر کے مخیر لوگوں کی توجہ اس کو حاصل رہی ہے۔ ''صولت پبلک لائبریری'' نے اپنی کتابیں ریختہ ڈیجیٹل لائبریری میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے چنانچہ اب یہ کتابیں ریختہ ڈیجیٹل لائبریری پر  پڑھی جاسکتی ہیں، جن میں "امیر خسرو کی جمالیات" از شکیل الرحمن، "افکار سودا" از شارب ردولوی، "اردو کی آخری کتاب" از ابن انشا، "غزنی نامہ" از خواجہ حسن نظامی، "آخر شب کے ہم سفر" از قرۃ العین حیدر، "مسدس حالی" از حالی، "مثنوی گلزار نسیم" از دیا شنکر نسیم، "رموز بے خودی" از اقبال، "کارل مارکس" از گوپال متل، "بکٹ کہانی" از محمد افضل، "کلیات سراج، "کلیات شیفتہ، "کلیات ظفر وغیرہ موجود ہیں، جبکہ رسائل میں "کتاب نما، "اکادمی اور'الفقیہ" کے اچھے خاصے شمارے اپنے قارئین کے منتظر ہیں۔

موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے