سیمیں درانی کے افسانے
ادھورا لمس
غزالی آنکھیں ستواں ناک، خوبصورت ہونٹ، کتابی چہرہ لمبی گردن جس پر تل کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ شاید خدا نے نظر بد کے ڈر سے ٹیکا لگا ڈالا۔ نازک اندام اور سرو قد یہ کسی شاعر کا خواب نہیں بلکہ جیتی جاگتی سومیہ تھی۔ انتہائی زہین اور زندگی سے بھرپور۔
پیمپر
صوفیہ ماں بننا چاہ رہی تھی سو بنا دی گئی۔ اس کے خالق کے لیے یہ ہرگز ناممکن و مشکل امر نہ تھا۔ جب سائینس کی دنیا میں انقلاب برپا ہوا اور ایک انسان نما مشین خلق کی گئی تو بار خالق نے زنانہ صنف کو فوقیت دی اور یوں صوفیہ وجود میں آئی۔ آرٹیفیشل انٹلیجنس نے