اسٹیٹ سینٹرل لائبریری، حیدرآباد کا تعارف
اسٹیٹ سینٹرل لائبریری، حیدرآباد (سابقہ کتب خانہ آصفیہ) تلنگانہ کی سب سے اہم عوامی لائبریری اور ریاستی کتب خانہ نظام کا مرکزی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد 1891ء میں معروف عالم مولوی سید حسین بلگرامی نے اپنی ذاتی لائبریری کی صورت میں رکھی، جسے بعد میں ریاستِ آصفیہ کے اعزاز میں کتب خانہ آصفیہ کا نام دیا گیا۔ ابتدا میں یہ لائبریری عابڈز میں قائم تھی، تاہم 1936ء میں اسے دریائے موسیٰ کے کنارے واقع موجودہ تاریخی عمارت، افضل گنج منتقل کر دیا گیا۔ اس عمارت کا سنگِ بنیاد 1932ء میں نظامِ حیدرآباد میر عثمان علی خان نے رکھا۔ برطانوی معمار ونسنٹ جیروم ایش کے ڈیزائن کردہ اس شاندار تعمیراتی نمونے کو 1998ء میں انٹاک (INTACH) نے ورثہ عمارت کا درجہ دیا، جبکہ 2025ء میں اسے ورلڈ مونومنٹس واچ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔
اسٹیٹ سینٹرل لائبریری تقریباً 72,247 مربع گز رقبے پر قائم ہے اور اس میں پانچ لاکھ سے زائد کتابیں، رسائل اور اخبارات محفوظ ہیں۔ اس کے ذخیرے میں انیسویں صدی کے اوائل سے شائع ہونے والی مطبوعات، نایاب مخطوطات، پام لیف (تالی پترا) مخطوطے، اور اردو، فارسی، عربی، انگریزی، تیلگو اور ہندی زبانوں کا قیمتی علمی سرمایہ شامل ہے۔ لائبریری میں موجود تقریباً 17,000 نادر مخطوطات بعد میں آندھرا پردیش اورینٹل مینوسکرپٹس لائبریری کو منتقل کر دیے گئے۔ 1941ء میں اس ادارے نے اپنی گولڈن جوبلی منائی، جبکہ 1955ء میں حیدرآباد پبلک لائبریریز ایکٹ کے نفاذ کے بعد اسے ریاستی مرکزی لائبریری کا درجہ دیا گیا۔ بڑھتے ہوئے ذخیرۂ کتب کے پیشِ نظر 1961ء میں ایک ضمیمہ عمارت بھی تعمیر کی گئی۔
اسٹیٹ سینٹرل لائبریری نے حالیہ برسوں میں اپنے علمی ذخیرے کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کے ای-گرنتھالیہ نظام اور کارنیگی میلن یونیورسٹی کے تعاون سے چالیس ہزار سے زائد کتابوں کو ڈیجیٹل شکل دی جا چکی ہے۔ اس منصوبے میں اردو، فارسی، عربی، انگریزی، ہندی اور تیلگو زبانوں کی نادر کتابیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 45,550 نایاب کتابوں پر مشتمل ایک ڈیجیٹل پورٹل بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ لائبریری کو کئی برسوں تک بنیادی سہولیات اور مناسب دیکھ بھال کے مسائل کا سامنا رہا، تاہم اس تاریخی ورثے کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مرمتی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ اس عظیم علمی ذخیرے کا ایک اہم حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے محققین اور قارئین اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔