سلطان شافی کے اشعار
اک سمت گھر کے لوگ ہیں اک سمت عشق ہے
اے نوجوان لڑکی حماقت کی بات ہے
وحشت نے مجھ حسین کو بے حال کر دیا
کمزور دل کے لوگ نہ دیکھیں مری طرف
میں تیرے ہوتے ہوئے غیر کی پناہ میں ہوں
مرے حبیب یہ تجھ پر عذاب ہے شاید
حالانکہ ایک شخص تمہاری جگہ پہ ہے
لیکن تمہارا اس سے خلا بھر نہیں رہا
بھلے وہ لڑکی قریب آ کر کھڑی رہے گی
ہمارے چہرے کی یہ اداسی بنی رہے گی