طالب دہلوی کے اشعار
شیخ حرم کا ذکر نہیں ہے مرے ندیم
پیر مغاں کے کشف و کرامت کی بات ہے
بشر مٹی کا پتلا ہی سہی زیر فلک طالبؔ
محبت سے مگر یہ خاک بھی اکسیر بنتی ہے
بت خانے میں بھی نور خدا دیکھتا ہوں میں
جی ہاں یہ میرے حسن عقیدت کی بات ہے
-
موضوع : خدا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کچھ اس کا فطرت آزاد پر قابو نہیں چلتا
یہ دنیا تو ہر اک کے پاؤں کی زنجیر بنتی ہے
-
موضوع : دنیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ مشت خاک جو پروانۂ دلگیر بنتی ہے
جگر کی آگ بجھ جاتی ہے جب اکسیر بنتی ہے
-
موضوع : پروانہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ