Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Tasleem Niyazi's Photo'

تسلیم نیازی

1966 - 2021 | آسنسول, انڈیا

اردو کے معروف شاعر

اردو کے معروف شاعر

تسلیم نیازی کا تعارف

اصلی نام : محمد تسلیم

پیدائش : 17 Feb 1966 | نالندہ, بہار

وفات : 19 Jan 2021 | آسنسول, مغربی بنگال

تسلیم نیازی کا اصل نام محمد تسلیم اور ان کے والد کا نام عبدالرحمٰن ہے۔ ان کی ولادت 17 فروری 1966ء کو ضلع نالندہ، بہار میں ہوئی۔ تعلیم بی اے تک تھی۔ آغازِ شاعری انھوں نے 1980ء سے کیا۔ کسی سے اصلاح نہیں لی اور خود پر بھروسا کیا۔ ”ڈالفن“ تسلیم نیازی  کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو 1992ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد تسلیم نیازی کے دیوان ”لہو شعر“ کی اشاعت 2012ء میں ہوئی جس کے مرتب جلال کاکوی ہیں۔ بعدازاں ”جی خراب رہتا ہے“ کے نام سے ایک اور شعری مجموعہ 2016ء میں شائع ہوا۔

تسلیم نیازی کی شعرگوئی سے متعلق اردو کے پروفیسر علیم اللہ حالی اپنے تاثرات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔
”اچھے اشعار کی تفہیم کا مسئلہ یہیں حاصل نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے لئے قاری کی اس غیرمعمولی ذہانت اور انتقادی حس کی ضرورت بھی ہوتی ہے جو اختراع اور تخلیق سے قریب ہو۔ ایسا قاری ناگفتہ کو بھی سرحدِ گفتار تک لے آتا ہے۔یہاں قاری فنکار کی تخلیقی شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ ان معنوی Gaps کو بھی پُر کرتا ہے جسے پُر کرنا یا تو فنکار ضروری نہیں سمجھتا یا جو اس کے حلقۂ اظہار میں آنے سے رہ جاتے ہیں۔ اس طرح شعر میں مفہوم کی تکثیریت پیدا ہوتی ہے اور فنکار کے ذریعہ تعمیر شدہ آئینہ عام قاری کے پاس پہنچ کر نگار خانہ بن جاتا ہے۔
تسلیم نیازی تخلیقِ شعر کے ان نازک امور سے واقف ہیں۔ ان کے اشعار ذہین قاری کی شرکت ضروری سمجھتے ہیں۔ اشعار کی لطافت اس وقت سوا ہوجاتی ہے جب قاری احساس و خیال کی Galloping کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کے اظہار کی سادگی اور سہل بیانی اکثر و بیشتر دھوکا بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے تخلیقی میلان کو میرؔ سے قریبی نسبت ہے۔ میرؔ ہی کی طرح تسلیم نیازی کے سادہ سے سادہ شعر میں احساس و فکر کا ناقابلِ پیمائش عمق ہے۔“

تسلیم نیازی کا انتقال 19 جنوری 2021ء کو آسنسول، مغربی بنگال میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے