وفا نقوی کے اشعار
زمیں اٹھے گی نہیں آسماں جھکے گا نہیں
انا پرست ہیں دونوں کے خاندان بہت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ایک ہی رنگ میں جینے کا ہنر سیکھا ہے
ہم سے ہر بات پہ چہرہ نہیں بدلا جاتا
اس بھیڑ میں دنیا کی ہم تم نہ بچھڑ جائیں
میں تم پہ نظر رکھوں تم مجھ پہ نظر رکھنا
آیا نہ پھر بھی چاند اتر کر زمین پر
کرتے رہے درخت اشارے تمام رات
اب یہ خواہش ہے کریں لوگ ہماری غیبت
پھیل جائیں تری گلیوں میں خبر کی صورت
اہل جنوں پسند نہ تھے اس کو اس لیے
ٹھکرا دیا گیا مجھے مجذوب دیکھ کر
خزاں آنے نہیں دوں گا کبھی میں اپنے پھولوں پر
گلستاں کو لہو دے کر سنواروں گا یہ وعدہ ہے
چھپا رہتا ہے دست آرزو خود دار لوگوں کا
بڑی مشکل سے اپنی ذات کا اظہار کرتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سب لوگ چل رہے تھے سڑک پر ملا کے ہاتھ
دیکھا جو غور سے تو کسی کا کوئی نہ تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اب ان سے پائی ہے تکلیف تو شکایت کیا
ہمیں نے سر پہ چڑھایا تھا کچھ کمینوں کو
بس ایک پل کی تمنائے وصل کی خاطر
تمام عمر لگا دی گئی سنورنے میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہر دور کا شہید ترے قافلے میں ہے
ہوتی نہیں حسین تری کربلا تمام
یہ سازشوں کا دور ہے اے تشنہ لب حیات
پانی تلاش کرنا سمندر کو چھوڑ کر
بس اک نشان سا باقی تھا کچے آنگن میں
پرندہ لوٹ کے آیا تو مر چکا تھا درخت
کوئی کیسے پا سکے گا سائبانی میں سکون
دھوپ جب بیٹھی ہوئی ہو سایۂ دیوار میں
ہمیں سے اجنبی لہجے میں بات کرتی ہے
ہمارے گھر کی ہمارے دیار کی مٹی