Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Wasim Nadir's Photo'

وسیم نادر

1974 | بدایوں, انڈیا

1990 کی دہائی کے معروف اردو غزل شاعر

1990 کی دہائی کے معروف اردو غزل شاعر

وسیم نادر کے اشعار

520
Favorite

باعتبار

میں خوشبوؤں کے ذکر پہ خاموش ہی رہا

حالانکہ ایک پھول مرے حافظے میں تھا

ہم چاہتے تھے موت ہی ہم کو جدا کرے

افسوس اپنا ساتھ وہاں تک نہیں ہوا

بہت تیزاب پھیلا ہے گلی کوچوں میں نفرت کا

محبت پھر بھی اپنے کام سے باہر نکلتی ہے

اس نے تعریف کے پتھر سے کیا ہے زخمی

یہ نشانہ بڑی مشکل سے خطا ہوتا ہے

تمہارے بعد اب جس کا بھی جی چاہے مجھے رکھ لے

جنازہ اپنی مرضی سے کہاں کندھا بدلتا ہے

سب لوگ جو حیرت سے تجھے دیکھ رہے ہیں

سر تیرا بہت چھوٹا ہے دستار بڑی ہے

یہ سوچ لو خوشبو کو ترس جاؤ گے ایک دن

پھولوں کو سیاست کا ہنر دے تو رہے ہو

نادرؔ تم اپنی پیاس کہاں لے کے آ گئے

قطرے ادھار مانگ کے دریا بنے ہیں لوگ

لوگ تو اور بھی اکیلے ہیں

تم کو احساس کچھ زیادہ ہے

تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ میں آئے گا

چراغ بجھتے ہیں تب جا کے رات کھلتی ہے

احسان کر رہا ہے ترا ہجر ان دنوں

میں ان دنوں خدا کے زیادہ قریب ہوں

ہمی اکیلے نہیں زندگی سے ہارے ہوئے

بہت سے لوگ کھڑے ہیں بدن اتارے ہوئے

تم ہم کو جواں دیکھ کے حیران ہوئی ہو

پہچان تو لیتی کہ وہ بیٹا ہے ہمارا

محبتوں کے حسیں خواب لے کے آنکھوں میں

بشیر بدرؔ کو پڑھتا ہوا وہ ایک لڑکا

محبت بوجھ بن کر ہی بھلے رہتی ہو کاندھوں پر

مگر یہ بوجھ ہٹتا ہے تو کندھے ٹوٹ جاتے ہیں

بچھڑ کر آپ سے یہ تجربہ ہو ہی گیا آخر

میں اکثر سوچتا تھا لوگ کیسے ٹوٹ جاتے ہیں

ترے بغیر بھی کہتی ہے مجھ سے جینے کو

یہ زندگی بھی سہی مشورہ نہیں دیتی

تھکن سے چور ہو کر گر گیا بستر پہ میں اپنے

مگر اب تک تری تصویر سے بازو نہیں نکلے

سمندروں کو بہت حسرتوں سے تکتے ہو

تم اپنی آنکھیں بھی صحرا بنا کے چھوڑو گے

یہ عشق لائے گا اس موڑ پر تجھے ایک دن

غزل نہیں تو مرا نام گنگنائے گا

میں خوشبوؤں کے ذکر پہ خاموش ہی رہا

حالانکہ ایک پھول مرے حافظے میں تھا

عمر بھر دشمنوں کے ساتھ رہے

آگ سے روشنی کا کام لیا

سب اپنے نام کی تختی لگائے بیٹھے ہیں

پتہ سبھی کو ہے یہ سلطنت خدا کی ہے

اب اس سے بڑھ کے محبت کسی کو کیا دے گی

کسی کی آنکھ کا آنسو کسی کی آنکھ میں ہے

مجھے رہنا تھا تری آنکھ میں آنسو کی طرح

میں تو ناکام ہوں اے دوست ستارہ بن کر

تمہیں بھی بھیڑ میں کھونا پڑے گا

تمہارے پاس بھی چہرہ نہیں ہے

وہ چل رہا تھا غیر کے شانے پہ سر رکھے

میں بھی کسی کے ساتھ اسی قافلے میں تھا

بس اک جنون سمندر میں غرق ہونے کا

نہیں تو اور ندی کے اپھان میں کیا ہے

محبتوں کو کہیں سے مدد نہیں ملتی

یہ جنگ ایسی ہے جس میں رسد نہیں ملتی

نسلیں وحشی ہو جاتی ہیں یار حفاظت کرنے میں

خوش ہونے کی بات نہیں ہے صحرا کی سلطانی پر

درد وہیں زنجیر وہیں دیوار وہیں

عشق سے آخر جھگڑا کیا ہے عالی جاہ

آنسو ہمارا اس کی ہتھیلی پہ آ گیا

شہزادہ آج اپنی حویلی پہ آ گیا

ہوا سے کہہ دو کہ خوشبو کا ہاتھ چھوڑ بھی دے

ابھی چراغ کی لو کو تری ضرورت ہے

ایسے موقعے تو اسیری میں کئی بار ملے

ہم اگر چاہتے زنجیر بدل سکتے تھے

محفل شعر و سخن یوں ہی رہیں باغ و بہار

نسل در نسل چلے میر تقی میرؔ کا دکھ

Recitation

بولیے