Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Yasir Tahsin's Photo'

یاسر تحسین

1996 | دلی, انڈیا

یاسر تحسین کے اشعار

99
Favorite

باعتبار

تم جو کہتے ہو چوم لو گے ہمیں

کرنے والے کہا نہیں کرتے

اس نے دن جلدی ڈھلنے کی خواہش کی

دھرتی نے رفتار بڑھا دی گردش کی

پہلے تو اک جھوٹے غم میں مٹ جانے کا ناٹک رچ

پھر دنیا کو جا جا کر بتلا تو کتنے دکھ میں ہے

یہ ابر نو ہمارے کسی کام کا نہیں

ان کو پسند ہی نہیں بارش میں بھیگنا

درد دل زندگی کی خوشی پی گیا

اک سمندر ہماری ندی پی گیا

تری یاد سینہ سے رخصت ہوئی

یہ بڑھیا بڑے دن سے بیمار تھی

چل دئے ہیں بول کر واپس نہ لوٹیں گے کبھی

چل دئے ہیں اک دفعہ پھر لوٹ آنے کے لیے

کیوں دے رہے ہو دستکیں چوکھٹ پہ بارہا

کتنی دفعہ بتاؤں کہ گھر پر نہیں ہوں میں

خدا کی آنکھ ہیں آنکھیں ہماری

خدا ان سے ہی دنیا دیکھتا ہے

اک دن ہر منظر کالا ہو جائے گا

سورج اس کی زلفوں میں کھو جائے گا

تصور کرو وہ تمہیں چاہتے ہیں

تصور کرو یہ تصور نہیں ہے

جو تم نہ ہوگی تو دل حویلی سرائے ہوگی

سرائے جس میں حسین چہرے رکا کریں گے

دغا سے باز آؤ میر جعفرؔ

ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں

زندگی رائیگاں گئی میری

اس گلی سے دکاں گئی میری

برسوں کاٹ لیے یہ کہہ کر

کل کو وصل ہوا جاتا ہے

آمد ہوئی تھی میں نے ہی دھتکار دی غزل

یہ کہہ کے دوسرا کوئی شاعر تلاش کر

آنسو کریں گے ایک بھی ضائع نہ آنکھ سے

دریا کو پاٹ کر یہاں صحرا بنائیں گے

جب کسی صورت نہیں ہے مجھ کو احساس وجود

پھر مرے کس کام کا ہے یہ جہان ہست و بود

ایسی تنہا راتوں میں ہی آتی ہے

ایک غزل جو شاعر کو کھا جاتی ہے

ستم یہ ہے تری آنکھوں کا پانی

مرے سینہ کی مٹی کاٹتا ہے

آ ہی جاتا تھا خیال غیر میرے ذہن میں

عین موقع پر تمہاری یاد نے کھٹکا کیا

رات ہوئی تو سب دیووں نے مندر میں

اس جوگن کو شیش نوائے رقص کیا

ہم دونوں کا عشق مکمل ہونا مشکل لگتا ہے

تو جنس جنات کی پیدا اور میں بیٹا آدم كا

ہائے وہ شوخ صندلی قامت

جس نے مجھ بے نیاز کو مارا

Recitation

بولیے