ذکیہ مشہدی کے ذریعے کیے گئے تراجم
پولیس کی دعوت
’’چھی، چھی، کیا زمانہ آ لگا ہے۔ ایسا لگتا ہے ہر چیز الٹی ہو گئی ہے۔‘‘ کنداسامی بڑبڑایا۔ کیا ایا۔ اگر کوئی دو پوریاں اور ایک پیالہ کافی بھی اپنے لیے نہ جٹا سکے تو ایسی دنیا کو کیا کہیں گے۔ اس نے گویا خود سے سوال کیا اور پھر ایک زوردار آواز میں تھوک
چابی
یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا۔ ایک زمانے بعد یہ موقع ملا تھا۔ چابی کے بغیر تالا کھول لینا اپنے آپ میں ایک فن ہے۔ ایک دلچسپ مشغلہ بھی۔ ہوسٹل کے زمانے میں اس نے ایک دوست کا تالا اسی طرح کھولا تھا۔ لیکن ایسا بار بار ہوتا کہاں ہے کہ تالا بند ہو اور چابی گم ہو
کرسی
کہیں بغیر کرسی کے بھی کوئی گھر ہوتا ہے؟ اچانک جیسے کنبے کا ہر فرد یہی سوچنے لگا تھا۔ آخر کرسی کو فیملی ایجنڈا میں شامل کر لیا گیا اور اس پر گفتگو ہونے لگی۔ پرسوں کنبے کے ایک پرانے شناسا ملنے آئے۔ وہ سب جج تھے۔ اب کیا وہ ہم لوگوں کی طرح لنگی
ایک بڑا قبرستان
شام پڑے پورا شہر ایسی بھیڑ بھاڑ والی شاہراہ میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں یا تو آپ کسی کو دھکا دے رہے ہوتے ہیں یا کوئی دوسرا آپ کو دھکیل رہا ہوتا ہے۔ اخلاق و تہذیب بس اتنے ہی رہ جاتے ہیں اور اگر آپ کسی ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں چارپانچ سڑکیں آکر ملتی