آتش تر

خمارؔ بارہ بنکوی

نیشنل بک ڈپو، حیدرآباد
1964 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

خمار بارہ بنكوی نے غزل گوئی اور فلمی نغمہ نگاری دونوں میں یكساں مقبولیت حاصل كی۔ "آتش تر"ان كے غزلیہ مجموعہ كلام ہے۔جس میں غزل كی قدیم روایات كی تہذیب اور شائستگی واضح ہے۔ان کا کلام سہل بیانی كا ایك ایسا جادو ہے جوقاری كو اس فریب میں مبتلا كردیتا ہے كہ ایسا آسان شعر تو ہم بھی كہہ سكتے ہیں۔لیكن یہ محض قاری كی خوش فہمی ثابت ہوتی ہے۔كیوں كہ اس میں فكر اور خیال كی سنجیدگی ،تشبیہات و استعاروں كا استعمال ایك سرے سے ہے ہی نہیں ،جس كی نقل كی جائے۔بلكہ یہ شاعر كی اپنی شگفتگی اورشخصیت كی دلنوازی سے مزئین ہے،جس كی نقالی مشكل ہے۔ خمار اپنے طرز كے بالكل منفرد شاعرتھے۔ان كے یہاں كلاسیكی زبان كا جو رچاؤ ملتا ہے اس نے ان كی شاعری كو سہل ممتنع بنادیا ہے۔ان کا مکمل کلام اسی كیفیت کا حامل ہے۔ان كا منفرد لب و لہجہ،داخلی اور خارجی امتزاج كےساتھ بے پناہ نغمگی قاری كی تو جہ اپنی جانب مبذول كروانے میں كامیاب ہے۔ زیر نظر مجموعہ جتنا مختصر ہے اتنا ہی دلفریب ہے۔جو اہل علم و ادب كے لیے كسی سوغات سے كم نہیں ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

خمارؔ بارہ بنکوی

خمارؔ بارہ بنکوی

15؍اگست 1947ءکو ہندوستان آزاد ہوگیا۔ تاج برطانیہ کی حکومت اسی رات ٹھیک بارہ بجے ختم ہوئی۔ حکومتیں آنا فاناً قائم ہوتی ہیں اور پلک جھپکتے میں ختم ہوجاتی ہیں۔ مگر تہذیب اور تمدن کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ نہ ہی کوئی فوری پیدا ہونے والی چیز ہے اور نہ ایسی بے وقعت ہے کہ جلد ہی اس کو مٹا دیا جائے بلکہ تہذیب کا حال اس تناور درخت کا سا ہے جس کو اگر کاٹا جائے تو پہلے اس کی ایک ایک شاخ جدا کرنا پڑے گی پھر تنا کو کاٹا جائے گا اور آخر میں جڑیں کھودی جائیں گی پھر بھی یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس درخت کے جو بیج اور پھل جابجا بکھرے ہوئے ہیں وہ پھر اسی طرح کا ایک اور درخت نہ پیدا کردیں۔ ہندوستان کی تہذیب بلکہ اس برصغیر کی تہذیب صدیوں سے ایک نہج پر قائم ہے اور اس کا ارتقاء اور پھیلاؤ قدرتی عوامل کے تحت ہوا ہے۔ حکومتیں قائم ہوتی رہتی ہیں اور ان کا خاتمہ ہوتا رہتا ہے لیکن عوام کا ذہن وہی رہتا ہے جو یہاں کے حالات کا تقاضا ہےکہ سب مل جل کر امن و آشتی سے رہیں اور یہاں کے بکھرے ہوئے قدرتی خزانوں سے خود کو اور یہاں کی سر زمین کو مالا مالا کرتے رہیں۔ بدقسمتی سے ڈیڑھ صدی قبل یہاں کے سب سے بڑے مکاروں، یعنی اہل برطانیہ، کی حکومت قائم ہونا شروع ہوئی 1857ء  سے 1947ء یعنی صرف 90 برسوں کے دوران انہوں نے یہاں کی امن پسند ذہنیت کو پراگندہ کردیا۔  یہاں کے باشندوں کے درمیان مذہبی، لسانی اور تہذیبی اختلافات جان بوجھ کر پیدا کئے اور ان کو بڑھاوا دیا۔ سابق حکمران مسلم طبقہ کو ہراساں کرنے کے لئے غیر مسلموں کو اکسایا اور یہ بات نفرت پھیلانے کے سلسلے میں ان کو ذہن نشین کرادی کہ تمہارا مذہب، فلسفہ زبان اور تہذیب بالکل الگ ہے۔ ہندوستان کی مشترکہ زبان کو دو رسم الخطوں میں لکھنے کا رواج کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں کیا گیا۔ اردو کے نوزائیدہ ہندی کا مدمقابل قرار دیا۔ اختلافات کی بات ہر طرح سے بڑھا کر دو قومی نظریہ کوائج کیا جس کے نتیجہ میں ملک تقسیم ہوگیا۔

اس تقسیم کے بعد لسانی منظر نامے کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت ہندوستان کو ایک وحدت میں منسلک کرنے والی  صرف دو زبانیں تھیں۔ ایک انگریزی جو سرکار کی زبان تھی اور پوری برطانوی عمل داری میں رائج تھی۔ دوسری زبان اردو تھی جو آسام سے پنجاب تک اور کشمیر سے راج کماری تک کے لوگوں کو ایک لسانی رشتے میں منسلک کئے تھی۔ ہر بڑے شہر اردو کے بڑے بڑے اخبارات اور رسائل شائع ہوتے تھے اور دکن میں جامعہ عثمانیہ قائم تھی جہاں تمام علوم کی تعلیم اردو میں ہوتی تھی اور تقریباً سارے ہندوستان میں مالگزاری، عدالت اور بلدی دفاتر اور سرکاری کاموں میں نیز ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی مقبول ترین اور رائج زبان اردو تھی۔ اردو کی ادبی محفلیں اور مشاعرے تہذیب و شائستگی کا نمونہ تھے اور یہ ایک قومی تفریح کا ذریعہ تھے۔ آل انڈیا ریڈیو اور فلموں کی زبان بھی اردو تھی۔ مشاعروں میں جو سب سے زیادہ مقبول صنف سخن تھی وہ تھی ’’عروس الاصناف‘‘ یعنی غزل۔

اس زمانے میں اگرچہ ہم سب ہندوستانیوں کے ذہن سیاسی کشمکشوں کے سبب منتشر تھے اور داغ داغ اجالے والی صبح آزادی کسی کو پسند نہ آئی تھی مگر ہمارے شعرا کا جذبۂ فکر ہمیشہ کی طرح جوان تھا اور وہ یہ کہتے رہے کہ۔

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہچنے

محبت کا یہ پیغام غزل کی زبان سے نشر ہوتا رہا اور ہمیں یہ محسوس ہوتا رہا کہ کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کو چاہنے کی خواہش موجود ہے۔ یہ اردو غزل کا پیغام محبت تھا جو ہندوستان کی دیگر مقامی زبانوں کو بھی متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس غزل کے رشتے نے ہندی تو ہندی، گجراتی، مراٹھی اور تلگو میں بھی اس کی ہیئت کو تمام حشر سامانیوں کے ساتھ داخل کردیا اور اسی طرح مقبول ہوتی جیسے اردو میں۔ ان زبانوں میں اردو غزل کی لفظیات بھی اپنے اصلی معنوں میں بلاتکلف استعمال کی جارہی ہے۔

اردو غزل کی وراثت لاکھوں شاعروں میں صدیوں سے تقسیم ہوتی آئی ہے لیکن بہت کم ایسے شاعر گمرے ہیں جن کے دامن میں لعل و جواہر آئے ہیں اور جن کی زبان سے الفاظ کے موتی بن بن کر بکھرے ہیں۔ ولیؔ دکنی نے اردو غزل کا چراغ روشن کیا تھا جو پہلے دہلی میں جگمگایا پھر لکھنؤ کے ایوانوں میں نور بن کے برسا۔ چراغ سے چراغ اور شمع سے شمع ہوتی رہی۔ اس مانوس نرم اور دلکش روشنی کی شمعوں کے سلسلے میں غالباً ترنم کے فانوس میں روشن ایک آخری شمع تھی جو محمد حیدر خاں خمارؔ بارہ بنکوی بن کر مارچ 1999ء تک جلتی رہی۔ ایک بے حد پسندیدہ تغزل سے بھر پور سوز میں ڈوبی ہوئی غزل گوئی اور غزل سرائی میں خمارؔ کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ اس راہ میں دو اکیلے تھے فرماتے تھے۔

ہو نہ ہو اب آگئی منزل قریب
راستے سنسان نظر آئے ہیں

اترپردیش کی راج دھانی سے مشرقی کی طرف 23 کلومیٹر دور شہر بارہ بنکی واقع ہے۔ اس کی خاص بولی تو کسی قدر اودھی سے ملتی جلتی ہے لیکن تعلیم یافتہ طبقہ اور شرفاء لکھنؤ کی زبان بولتے ہیں۔ تہذیب بھی وہی ہے۔ شعروادب کی محفلیں اور مشاعرے اور دیگر ادبی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ بارہ بنکی ضلع میں قصبہ رودولی بھی ہے جہاں کے نامور شاعر مجازؔ تھے۔ قرارؔ بارہ بنکوی بھی اچھے شاعر تھے جن کے کلام کو لکھنؤ کے اہل زبان بھی پسند کرتے تھے۔ ان ہی کے ایک شاگرد محمد حیدر خاں یعنی خمارؔ بارہ بنکوی تھے۔ انہوں نے اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کر کے محکمہ پولیس میں ملازمت کرلی تھی۔ شعر گوئی کا شوق بچپن سے تھا۔ پہلے مقامی مشاعروں میں شرکت کرتے رہے پھر لکھنؤ کی نجی صحبتوں میں کلام سنایا تو ہیاؤ کھلا اور باقاعدہ مشاعروں میں مدعو کیے جانے لگے۔ قدرت نے ان کو غزل کی مناسبت سے بے حد دلکش اور پرسوز آواز عطا کی تھی جس کو آواز کا ایک نشاط انگیز سوز کہنا چاہئے۔ جو جگر مرادآبادی کے بعد ان ہی کے حصے میں آیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ غزل ان کے لئے اور وہ غزل کے لئے بنے تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’میں نے جملہ اصناف سخن کا تجزیہ کرنے کے بعد اپنے محسوسات اور واردات کے اظہار کے لئے کلاسیکی غزل ہی کو سب سے زیادہ موزوں اور مناسب پایا چنانچہ غزل کے خدمت گزاروں میں شامل ہوگیا۔ وقت نے کئی کروٹیں بدلیں مگر میں نے غزل کا دامن نہیں چھوڑا‘‘۔ یہ فیصلہ خمارؔ کا بالکل صحیح تھا۔ ورنہ اردو ادب میں محبوب کی دلبری اور عاشق کی غم آشنا دلنوازی سے بھر پور ہلکی پھلکی مترنم غزلوں کا اتنا اچھا ذخیرہ جمع نہ ہونے پاتا۔ غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے

یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازک
نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے

خمارؔ کی آواز میں جن لوگوں سے مندرجہ بالا غزل کو سنا ہے ان کے ذہن میں یقیناً یہ ایک خواب صورت یاد کی صورت میں جاگزیں ہوگی۔

ان کی غزلوں کے کچھ پسندیدہ اشعار ذیل میں درج کئے جارہے ہیں۔

اس گزارش ہے حضرت ناصح
آپ اب اور کوئی کام کریں

روشنی کے لیے گھر جلانا پڑا
ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

دل کچھ اس طرح دھڑکا تری یاد میں
میں یہ سمجھنا ترا سامنا ہو گیا

اشک بہہ بہہ کے مرے خاک پہ جب گرنے لگے
میں نے تجھ کو ترے دامن کو بہت یاد کیا

آپ کو جاتے نہ دیکھا جائے گا
شمع کو پہلے بجھاتے جائیے

بجھ گیا دل حیات باقی ہے
چھپ گیا چاند رات باقی ہے

رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر رات باقی ہے

داستاں کو بدلتے جاتے ہیں
عشق کی داستاں جاری ہے

یوں تو ہم زمانے میں کب کسی سے ڈرتے ہیں
آدمی کے مارے ہیں آدمی سے ڈرتے ہیں

دن زندگی کے کٹ گئے در کھڑے کھڑے
دو کہہ گئے تھے لوٹ کے آنے کے واسطے

قیامت یقیناً قریب آگئی ہے
خمارؔ اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں

غم سے باز آئے تھے خوشی کے لئے
دو ہی دن میں خوشی سے باز آئے

پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے
پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

غزلوں کے علاوہ انہوں نے منقبت اور سلام بھی کہے ہیں۔ سلام کے بعض اشعار نہایت بصیرت افروز ہیں۔

حق و باطل میں کہیں جنگ اگر ہوتی ہے
کربلا والوں پہ دنیا کی نظر ہوتی ہے

اک نوا سے کا یہ احسان ہے اک نانا پر
مسجدوں میں جو اذاں شام و سحر ہوتی ہے

ایک اور سلام میں کہتے ہیں۔

راہ حق میں مرنے والے روز عاشورہ خمارؔ
موت سے کھیلا کئے اور زندگی بڑھتی گئی

1945ء میں مشاعرے میں شرکت کی غرض سے خمارؔ، جگرؔمرادآبادی اور مجروحؔ سلطان پوری کے ساتھ بمبئی آئے تھے۔ اے آر کاردار نے جب ان کا کلام سنا تو اپنی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ میں گیت لکھنے کی فرمائش کی جو خمارؔ نے قبول کر لی۔ اس فلم میں نوشاد نے موسیقی دی تھی اور کندن لعل سہگل نے گیت گائے تھے۔

چاہ برباد کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا
ہم پہ ایسے بھی پڑے گی ہمیں معلوم نہ تھا

کچھ اور گانے بھی ان کے بڑے مقبول ہوئے جیسے:
(1) تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی 
(2) بھلا نہیں دینا بھلا نہیں دینا۔ زمانہ خراب ہے
(3) دل کی محفل سجی ہے چلئے آئیے
(4) محبت خداہے محبت خدا ہے
بمبئی کے ماحول اور 1947ء کے فسادات نے ان کو بمبئی سے دل برداشتہ کردیا اور وہ واپس شمالی ہند چلے گئے۔

خمارؔ نہایت سادگی پسند تھے اور دلچسپ گفتگو کرتے تھے۔ ہر ایک سے جھک کے ملتے تھے۔ ابتداء میں مئے نوشی کے بری طرح عادی تھے لیکن بعد کو تائب ہوگئے تھے۔ فکروخیال کی دھیمی دھیمی آگ کو وہ سینے میں لیے پھرتے تھے اور کبھی کبھی اشعار میں اس کا اظہار کردیتےتھے مگر شکایت نہیں۔ ان کی جواں سال لڑکی جب انتقال کر گئی تو اس عظیم صدمے کو انہوں نے صرف ایک شعر میں ظاہر کیا ہے جو بجائے خود مرثیہ ہے۔
اس کو جاتے ہوئے تو دیکھا تھا
پھر بصارت نے ساتھ چھوڑ دیا

خمارؔ نے 80 برس کی طویل عمر پائی۔ 19؍ مارچ 1999ء کو بادۂ ہستی کا خمارؔ اتر گیا اور وہ عالم جاودانی میں پہنچ گئے۔

ان کے تین مجموعہ کلام: ’’آتش تر‘‘، ’’رقص مئے‘‘، ’’شب تاب‘‘ طبع ہو کر شائع ہو چکے ہیں۔ حیدرآباد کے ایک مشاعرے میں لی گئی ایک تصویر سے ان کا صرف چہرہ لے کر باقی حصہ میں نے مکمل کیا اوررنگ و پس منظر سے آراستہ کیا ہے۔ اس پوز میں وہ کلام سناتے نظر آرہے ہیں اور بہت سوں کی یادداشت میں ان کا یہی چہرہ محفوظ ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب