अबताल-ए-ग़ुलामी

सय्यद अहमद

मतबा मुफ़ीद आम, आगरा
1893 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

انسان فطرتا آزاد پیدا کیا گیا ہے خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تب اس کو آزاد پیدا کیا کیوں کہ وہ اپنا نائب پیدا کرنا چاہتا تھا ناکہ نوکر اس لئے خدا نے انسان میں اپنی صفات ڈالیں تاکہ نائب کی صفات کچھ نہ کچھ خدا سے ملتی جلتی رہیں اسی لئے اس نے انسان کو مختار پیدا کیا گوکہ وہ مجبور بھی ہے مگر وہ مجبور محض نہیں ہے بلکہ وہ جب جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں کرتا۔ اگر وہ مجبور محض ہوتا تو خدا کے حکم سے روگردانی نہ کرتا۔ تاریخ کا جب سے جنم ہوا ہے تب سے ہم غلاموں کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں اور دنیا کی متمدن اقوام کے یہاں اس سلسلہ کو دیکھا جاتا ہے چاہے وہ یونان ہو یا روم، ایران ہو یا یورپ کے ممالک، ہندوستان ہو یا اسلام، سب کے یہاں غلامی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اسلام ایک موڈرن اور سب سے بعد میں آنے والا مذہب ہے اور اس مذہب کو اس فرسودہ نظام پر روک لگانا چاہئے تھا مگر اس نے بھی غلاموں کے حقوق تو بیان کئے مگر اس پر روک نہیں لگائی اور نہ ہی کسی دوسرے مذہب نے روک لگائی۔ اس کا سہرا انگلینڈ کی سرزمین کو حاصل ہے جس نے قانونا اپنی سرزمین پر اس کو بند کر دیا اور قانون بنایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کا غلام جب ہماری سرزمین پر قدم رکھے گا تو خود بخود آزاد ہو جائیگا اگرچہ اپنے ملک جاکر مالک دوبارہ اس پر دعوی کر سکتا ہے۔ یہ کتاب غلامی سلسلہ کی تاریخ اور اس کے مختلف موضوعات پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں غلامی سلسلہ کی تاریخ اور اس کے منفی اثرات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम