بی بی طوری کا خواب

صغرا ہمایوں مرزا

صغرا منزل، حیدرآباد
1952 | مزید

مصنف: تعارف

صغرا ہمایوں مرزا

صغرا ہمایوں مرزا

صغرا ہماریوں مرزا ہندوستان کی ایک مشہور و معروف علمی، ادبی اور مخیر شخصیت تھیں ۔ انھوں نے اصلاح معاشرہ اور تعلیم نسواں کے لئے خود کو اور اپنے قلم کو وقف کردیا تھا ،وہ اچھی مقرر بھی تھیں۔ کئ نسائ ادبی  تنظیموں کی بانی تھیں اور کئ تعلیمی ادراے قائم کئے تھے اور ان کے لئے اپنی ذاتی املاک  عطا کی تھی۔ وہ  حیدر آباد کی پہلی خاتون تھیں جنھوں نے برقع پہننا ترک کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں انھوں نے ہٹلر کو جنگ سے باز آنے کے لئے خواتین کی طرف سے ٹیلی گرام بھی بھجوایا تھا۔

ا ن کے  والد نظام حیدر آباد کی فوج میں سول سرجن تھے۔ صغرا نے گھر پر ہی اردو فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے شوہر ہمایوں مرزا عظیم آباد(پٹنہ) کے ایک جاگیردار خاندان کے  فرد  اورایک نامور بیرسٹر تھے۔ انھوں نے حیدر آباد میں بہت بڑی زمین خرید کر صغرا محل تعمیر کیا۔ یہ علاقہ اب ہمایوں نگر کہلاتا ہے ۔ صغرا کا قائم کردہ صفدریہ اسکول اب بھی قائم ہے۔

صغری ہمایوں مرزا کی متعدد  کتابیں شائع ہوئیں جس میں ناول،افسانوی مجموعے، سفر نامے اور سوانح وغیرہ  شامل ہیں۔ ’’سرگزشت‘‘،’’ہاجرہ‘‘، ’’موہنی‘‘، ’’مشیر نسواں‘‘، ’’بی بی طوری کا خواب‘‘(ناول)۔  ’’آوازغیب‘‘ (افسانے)۔ ’’مقالات صغرا‘‘ ، ’’مجمو عہ نصائح‘‘، ’’میرے موسومہ خطوط‘‘، ’’تحریر النساء‘‘ اور ’’راز و نیاز‘‘ قابل ذکر ہیں۔‘‘انوار پریشاں‘‘ ان کا  شعری مجموعہ ہے جس میں غزلیں ، نظمیں اور مذہبی کلام شامل ہے ۔ ان کے مضامین  اورکہانیا ں مختلف رسائل  اور ان کی اپنی ادرات میں شائع ہونے والے رسالے ’’النسا‘‘ ’’انیسہ‘‘ اور ’’زیب النسا‘‘ میں چھپتے تھے۔

 

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب