dehli ki aakhiri shama

मिर्ज़ा फ़रहतुल्लाह बेग

उर्दू अकादमी, दिल्ली
2003 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

مرزا فرحت اللہ بیگ نے غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی راج کا عروج بھی دیکھا اور اُسے کمزور ہوکر ہندوستان چھوڑنے پر مجبور بھی دیکھا۔ اُن کے ابتدائی زمانے میں اگرچہ مغل سلطنت دم توڑ چکی تھی، تاہم وہ ثقافت اور رنگ ڈھنگ کہیں نہ کہیں باقی تھے۔ مرزا نے ان رنگوں کو اپنی تحریروں میں بڑی خوبصورتی سے قید کرلیا ہے۔ آپ کو جزئیات نگاری میں ملکہ حاصل تھا۔ داستان بیان کرتے ہوئے منظر کشی ایسی کرتے ہیں کہ ایک ایک رنگ نمایاں ہوجاتا ہے۔ زیر نظر کتاب 1857 سے دس سال قبل کی دہلی کا تہذیبی مرقع ہے اور ایک اہم تہذیبی دستاویز ہے۔ جب مغل تہذیب اور قدیم اقدار کے اثرات مٹ رہے تھے۔ انہوں نے مٹتے ہوئے تہذیب و تمدن کو" دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ" جیسی تحریر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ اسی یادگار مشاعرہ کو "دہلی کی آخری شمع" کے نام سے دہلی اردو اکیڈمی نے پیش کیا ہے۔ جس پر صلاح الدین صاحب کا بیش قیمتی مقدمہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम