aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: تاریخی ناول نگار، مورخ، بلند پایہ صحافی، ماہرِ لسانیات اور عرب قوم پرستی کے اولین نظریہ سازوں میں شامل
جرجی زیدان 14 دسمبر 1861ء کو بیروت (لبنان) میں ایک متوسط عیسائی (آرتھوڈوکس) خاندان میں پیدا ہوئے۔ نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1881ء میں 'سیرین پروٹسٹنٹ کالج' (موجودہ امریکن یونیورسٹی آف بیروت) میں طب کے طالب علم بنے، تاہم ڈارون ازم سے متعلق ایک تنازع اور احتجاج کے نتیجے میں وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر قاہرہ منتقل ہو گئے، جو اس وقت عرب دانشوروں کا مرکز تھا۔ وہ "النہضہ" (عرب بیداری) کی تحریک کے ایک اہم ستون مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1892ء میں مشہورِ زمانہ رسالہ "الہلال" جاری کیا، جس کا مقصد عام عرب آبادی کو ان کی اپنی تاریخ سے روشناس کرانا تھا۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے تاریخ، فلسفہ، لسانیات اور سماجیات جیسے موضوعات پر گراں قدر کام کیا اور دنیا کی کئی مشہور شخصیات بشمول چارلی چیپلن اور صدر روزویلٹ کے انٹرویوز کیے۔
ادبی میدان میں جرجی زیدان کی سب سے بڑی خدمت تاریخی ناول نگاری کا آغاز ہے۔ انہوں نے کل 23 تاریخی ناول لکھے جو اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار پر مبنی تھے۔ ان کے ناولوں کی خاص بات تاریخی صحت (Historical Accuracy) تھی، جس کے لیے وہ فٹ نوٹس اور مستند حوالہ جات کا استعمال کرتے تھے۔ ان کا مقصد محض کہانی سنانا نہیں بلکہ سادہ اور سہل زبان میں تاریخ کی تعلیم دینا تھا تاکہ مطالعہ صرف اشرافیہ تک محدود نہ رہے۔ ان کی کتاب "تاریخ التمدن الاسلامی" (History of Islamic Civilization) اسلامی تہذیب پر ایک تنقیدی اور سیکولر مطالعہ پیش کرتی ہے، جو اپنے وقت میں کافی متنازع بھی رہی۔ ان کی علمی شہرت کا عالم یہ تھا کہ ان کا رسالہ "الہلال" ایران، بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ تک پڑھا جاتا تھا۔
وہ انفرادی محنت اور خود اعتمادی کے قائل تھے اور سیموئیل اسمائلز کی کتاب 'Self-Help' سے بے حد متاثر تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عرب دنیا کی ترقی کے لیے سیاسی آزادی سے پہلے اصلاحِ معاشرہ اور تعلیم لازمی ہے۔ اگرچہ 1910ء میں انہیں قاہرہ یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کی پروفیسری کی پیشکش ہوئی، مگر قدامت پسند حلقوں کی مخالفت کی بنا پر وہ اس عہدے پر کام نہ کر سکے۔ تاہم، ان کی تحریروں نے طہٰ حسین اور نجیب محفوظ جیسے ادبی بڑے ناموں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
وفات: 21 جولائی 1914ء کو قاہرہ (مصر) میں انتقال ہوا۔