ہندوستان میں تصوف

آل احمد سرور

اقبال انسٹی ٹیوٹ، کشمیر یونیورسٹی، سرینگر
1987 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

ہندوستانی تہذیب ،جس کی بنیاد اور صورت پذیری کا سلسلہ ماضی میں عیسی مسیح کی ولادت سے کوئی پانچ ساڑھے پانچ ہزار پیچھے تک چلا جاتا ہے،دنیا کی عظیم اور قدیم ترین تہذیبوں میں سے ہے۔ برصغیر میں اسلام کا داخلہ اور سندھ میں مسلم راج کا قیام اگر چہ آٹھویں صدی میں ہوچکا تھا لیکن صوفیاء کرام کی آمد کا باقاعدہ سلسلہ دسویں صدی میں خواجہ معین الدین چشتی کی آمد کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ صوفیوں نے یہاں کی روایتوں کو اپنایا، مقامی علم و فن سے فیض اٹھایا اوریہاں کے تصورات اوراقدار کا احترام کرتے ہوئے جوں کا توں یا کچھ تبدیلی کے بعد اپنے ہاں جاری اور رائج کر لیا۔ صوفی ازم نے ہندوستانی تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کئے۔یہاں کی رنگا رنگی میں مزید نکھار پیدا کیا۔ برداشت، رواداری، انسان دوستی اور عدم تشدد کی بھولتی جارہی ہندوستانی اقدار کو نئی زندگی بخشی ۔علمی اور فکری خزانوں میں بے پناہ اضافہ کیا اورروحانیت اور خدا کے متعلق نئے تصورات سے آشنا کیا۔ زیر نظر کتاب آل احمد سرور کی مرتب کردہ کتاب ہے ، جس میں پیش لفظ کے علاوہ تصوف کے حوالے سے سات مضامین شامل ہیں۔یہ مضامین در اصل اقبال انسٹی ٹیوٹ، اور صوفی کانفرنس کے اشتراک مئی 1983 میں منعقدہ سہ روزہ سیمنار میں پیش کیے تھے۔اس سیمنار میں جو مضامین اردو میں پیش کیے تھے ، آل احمد سرور نے ان کو اس کتاب میں جمع کیا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

آل احمد سرور

آل احمد سرور

آل احمد سرور 9 ستمبر 1911 کو بدایوں کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1928 میں ہائی اسکول پاس کیا۔ اس کے بعد سینٹ جانس کالج آگرہ سے بی ایس سی کی۔ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا۔ 1936 میں علیگڑھ ہی سے اردو میں بھی ایم اے کیا۔ 1938 میں شعبۂ اردو میں لکچرر ہوگئے۔ 1946  سے 1955  تک لکھنؤ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1955  میں پھر علیگڑھ آگئے اور رشید احمد صدیقی کے بعد شعبے کے صدر رہے۔ 
 لکھنؤ میں اپنے قیام کے دوران سرور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور انجمن کے جلسوں میں شریک ہونے لگے لیکن وہ کبھی بھی ترقی پسند نظریاتی جبر کا شکار نہیں ہوئے ۔ ان کی ترقی پسند فکر ہمیشہ انسان دوستی کی علمبردار رہی ، وہ سرمایہ داری اور رجعت پسندی کی مخالفت کرتے رہے لیکن ادب کے اس ہنگامی اور انقلابی تصور کے خلاف رہے جس کا پرچار اس وقت میں جوشیلے نوجوان کر رہے تھے۔ سرور نے مغربی اور مشرقی ادب کے گہرے مطالعے کے بعد اپنی تنقید نگاری کے لئے ایک الگ ہی انداز دریافت کیا۔ اس میں مغربی تنقیدی اصولوں سے استفادہ بھی ہے اور مشرقی اقدار کا رچاو بھی۔ 
تنقید نگار کے ساتھ ایک شاعر کے طور پر بھی سرور منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں فکر انگیزی، کلاسیکی رچاو اور جدید احساس کی تازہ کاری ملتی ہے۔ سرور کی تنقید اور شاعری کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کے نام یہ ہیں۔ ’نئے اور پرانے نظریے‘ ’تنقید کیاہے‘ ’ادب اور نظریہ‘ ’مسرت سے بصیرت تک‘ ’اقبال کا نظریہ اور شاعری‘ ’ذوق جنوں‘ (شاعری) ’خواب باقی ہیں‘(خودنوشت)۔ 

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب