aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: عظیم فارسی شاعر، نثر نگار اور اخلاقی و صوفیانہ ادب کے نمائندہ ادیب
شیخ سعدی کا نام شرف الدین، لقب مصلح الدین اور سعدی ان کا تخلص تھا۔ اس تخلص کی نسبت شیراز کے بادشاہ اتابک سعد بن زنگی سے جڑی ہے جس کے دربار میں ان کے والد ملازم تھے۔
سعدی 1210ء میں ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے نام کے ساتھ “شیرازی” کا لاحقہ لگا۔ بچپن ہی میں والد کا انتقال ہوگیا جس کے بعد ناز و نعمت کی زندگی ختم ہوگئی، اگرچہ شاہی ملازمت کے سبب خاندان مالی طور پر خوشحال تھا۔
حصولِ علم کی خاطر وہ بغداد گئے جہاں عالمی شہرت یافتہ مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا۔ اس مدرسے میں نامور علما تدریس کرتے تھے اور طلبہ کو وظائف بھی ملتے تھے۔ اگرچہ شیراز بھی علمی مرکز تھا مگر زمانے کے دستور کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لیے نظامیہ کا انتخاب کیا جو اپنے عہد کی بین الاقوامی درسگاہ سمجھی جاتی تھی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد سعدی نے طویل سیاحتیں کیں۔ وہ شام، مصر، عراق، اناطولیہ، یروشلم، پھر مکہ اور مدینہ تک گئے، بڑے شہروں کی زیارت کی، بازاروں اور تہذیبی مظاہر کا مشاہدہ کیا، فنونِ لطیفہ سے لطف اندوز ہوئے اور علما و اہلِ فن سے ملاقاتیں کیں۔ تقریباً تیس برس کی سیاحت کے بعد اپنے وطن ایران لوٹے جہاں پرانے رفقا سے ملاقاتیں ہوئیں۔
1257ء میں وہ دوبارہ شیراز پہنچے۔ اس وقت عمر کی چار دہائیاں بیت چکی تھیں۔ اسی برس اپنی کتاب بوستان پر کام مکمل کیا اور اپنی تحریروں کو کتابی صورت دی۔ بطور شاعر وہ اپنی شناخت قائم کرچکے تھے، اسی لیے شیراز واپسی پر ان کا شاندار استقبال ہوا اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے نامور شاعر کے خیرمقدم کے لیے نکلے۔ اس کے بعد انہوں نے زیادہ تر زندگی شیراز میں گزاری اور شعر و سخن میں مصروف رہے۔
ان کی شہرۂ آفاق تصانیف بوستان اور گلستان ہیں۔ بوستان ایک شعری مجموعہ ہے جس میں اخلاقی، مذہبی اور صوفیانہ اقدار کو رزمیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس گلستان نثری حکایات کا مجموعہ ہے جس میں مختصر کہانیوں کے ذریعے دانائی اور بصیرت کے نکات نہایت مؤثر انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
سعدی شیرازی کا اندازِ فکر درویشانہ ہے۔ وہ دنیاوی آلائشوں کو ناپسند کرتے ہیں، معمولی واقعات سے زندگی کے گہرے اسرار واضح کرنے کا ہنر رکھتے ہیں اور انسانی وجود کی کیفیتوں کو نہایت باریکی سے پیش کرتے ہیں۔ اخلاق، حکمت اور انسان دوستی ان کے ادب کا مرکزی جوہر ہے جس نے انہیں فارسی ادب کے عظیم ترین ناموں میں شامل کر دیا۔
وفات: 1292ء میں شیراز ہی میں انتقال ہوا۔