जब फ़स्ल-ए-बहाराँ आई थी

कलीम आजिज़

सनराइज़ प्लास्टिक वर्क्स, पटना
1990 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

پیش نظر کلیم احمد عاجز کا دوسرا شعری مجموعہ "جب فصل بہاراں آئی تھی"شاعر کی سادہ وپرکار نثر اور سہل و دلنشیں شاعری کا حسین امتزاج ہے۔کلیم عاجز دور جدید کے پہلے شاعر ہیں جنھیں میرؔ کا انداز نصیب ہوا ہے۔ شاعر نے آسان ،عام بول چال کی زبان میں اپنی آب بیتی اور جگ بیتی سنائی ہے۔ان کی زبان کی تاثیر کا یہ عالم ہے کہ اس کاایک ایک لفظ دل کی گہرائیوں میں اترتا ،قاری کے جذبات و احساسات میں ارتعاش پیداکرتا ہے۔کلیم عاجز کا لہجہ میں بے ساختگی ،اپنائیت ،معصومیت،اور مظلومیت جھلکتی ہے۔زبان کی سادگی ،لہجے کی بے ساختگی ،جذبات کی روانی کلیم کے نثرکی ایسی خوبیاں ہیں جو انھیں دوسرے نثر نگاروں سے منفرد کرتی ہیں۔وہیں کلیم احمد عاجز کی غزلیں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔اس میں بلا کا سوز و گداز ،روانی اور تاثیر ہے۔کلیم نے اپنے احساسات وجذبات کو اس فنی مہارت سے شاعرانہ پیرائیہ میں ڈھالا ہے کہ قاری شاعر کی دلی کیفیت کو ہو بہ ہو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ان کے غزلوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ کلیم نے غم جاناں اور غم دوراں کو اس طرح باہم دست و گریباں کردیا ہے کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہے۔ان کی غزلوں میں بیک وقت محبوب کا تصور سامنے آتا ہے تو وہیں سیاسی اور ملی شعور کا احساس بھی نمایاں ہے۔ان کے اکثر اشعار سہل ممتنع کی عمدہ مثال ہیں۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम