jamil mazhari ke marsiye

जमील मज़हरी

1988 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

جدید مرثیہ نگاری کے عہد میں جمیل مظہری کا نام امتیازی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے عہد طفلی میں ہی شاعری کا آغاز کیا اور اس ماحول میں پرورش پائی جہاں مجالسِ عزا کا اہتمام ہوتا تھا۔ جمیل مظہری نے اپنی کم عمری کے باوجود معرکتہ الآراء مرثیے نظم کرکے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ انکاپہلا مرثیہ عرفان ِعشق(۱۹۳۰ء )جو فکر ی لحاظ سے انقلاب انگیز ہے۔ اسکے علاوہ پیمانِ وفا (۱۹۳۶) عزم محکم(۱۹۴۲ء )مضراب شہادت(۱۹۵۱ء )افسانہ ہستی(۱۹۵۷)شامِ غریباں (۱۹۶۳ء) جیسے شاہکار مرثیے نظم کرکے اپنے تبحرِ علمی ، وجدانی کیفیات اورتجربے کی ضو میں واقعات ِکربلا کا جائزہ لے کر اسے مذہب اور خالص فرقہ وارانہ نقطہ نظر سے بلند کیا۔ ان کا دور جوش ملیح آبادی اور نجم آفندی والا ہے ، ان مشہور و معروف مرثیہ نگاروں کی وجہ سے ہی مظہری کو وہ شہرت نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ مگر معیاری مرثیہ نگاروں میں ان کا نام شامل ہے۔ زیر نظر کتاب میں جمیل مظہری کے دس اقسام کی مراثی کو شامل کیا ہے اور ہر قسم کے ساتھ ایک باب قائم کیا ہے اور اس باب کے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہے کہ یہ کب اور کس سال میں کہا گیا مرثیہ ہے۔ ہر باب کے شروع ہونے سے پہلے یہ بتا دیا ہے کہ اس عنوان کے تحت کتنے بند ہیں اور کس واقعہ کے غم میں یہ مرثیہ کہا جا رہا ہے ۔ ۱۹۴۱ کی کچھ یادگار تصویریں بھی دی گئی ہیں ۔ٹائیٹل پیج لال رنگوں سے نہایا ہوا ہے جو کہیں نہ کہیں کسی کے ناحق خون کا اشارہ دیتا ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक: परिचय

जमील मज़हरी

जमील मज़हरी

जमील मज़्हरी, सय्यद काज़िम ली

1904-1979

उन्मुक्तविचारों, परम्परा-शिकनरुज्हानऔरदार्शनिकदृष्टिकेलिएमशहूरप्रमुखशाइर।पटनामेंपैदाहुए।पटनायुनिवर्सिटीमेंउर्दू-फ़ारसीकेप्रोफ़ेसररहे।आज़ादीकीलड़ाईमेंसरगर्मशिर्कतऔरक़ैद।पत्रकारितामेंसक्रिय।वहशतकलकत्तवीकेशागिर्द।

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम