خاکم بدہن

مشتاق احمد یوسفی

حسامی بک ڈپو، حیدرآباد
1984 | مزید
  • ذیلی عنوان

    خاکے اور مزاحیے

  • معاون

    ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد

  • موضوعات

    طنز ومزاح, خاکے/ قلمی چہرے, مضامين و خاكه

  • صفحات

    209

کتاب: تعارف

تعارف

اردو ادب میں اگر مزاح و ظرافت کی بات آئے اور مشتاق احمد یوسفی کا ذکرنہ ہویہ نا ممکن سا ہے ۔مزاح و ظرافت میں وہ ایک ستون کا درجہ رکھتے ہیں۔ تقسیم کے بعد ہی وہ اپنی ادبی زندگی کی شروعات کر چکے تھے جن کے نثر پارے مختلف میگزین کے زینت قرار پائے ۔ یہ ان کی دوسری کتاب ہے جو 1969 میں شائع ہوئی۔ کتاب کے دیبا چے میں ہی مصنف نے لکھا ہے کہ کتاب کے مجموعی طور پر آٹھ حصے ہیں۔ ’’ آدم جی‘‘ ایوارڈیا فتہ یہ کتاب یوسفی کی بہترین کتاب شمار کی جاتی ہے ۔اس کتاب میں شامل تمام خاکے ہر عام آدمی کا ایسا خاکہ ہے جس میں کروڑوں انسانوں کی ہی نہیں بلکہ پور ی تہذیب و ثقافت کی تصویر ملتی ہے ۔ سنجید ہ سے سنجیدہ صورتحال کو مزاح کے سانچے میں ڈھال کر یو ں بیان کر تے ہیں کہ ستم ظریفی پر ہنسے بنا نہ رہا جائے۔ کر داروں کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں کہ پڑھنے والا اسے اپنی آنکھوں کے سامنے متحرک محسوس کرتا ہے ۔بھر پور لمحہ فکر یہ پر بھی یو سفی کی تحریر یں پہلے گدگدانے اور پھر تاسف پر مجبور کرتی ہیں اور یہ ان کا ایک امتیازی پہلوبھی ہے ۔ان کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے مزاح کا جومعیار متعین کردیا اب اس کوسر کرنا دوسروں کے لیے ذرا مشکل ہوگا۔ آپ اس کتاب سے مزاح کے کمال فن کا مطالعہ کیجیے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

مشتاق احمد یوسفی

مشتاق احمد یوسفی کی ولادت 4 ستمبر 1923ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر ٹونک، راجستھان کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد محترم جناب عبدالکریم خان یوسفی جے پور بلدیہ کے صدرنشین تھے اور بعد میں جے پور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مقرر ہوئے۔ مشتاق احمد یوسفی نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ بی اے کیا پھر اعلیٰ تعلیم کرنے کے لئے آگرہ کے مشہور کالج سینٹ جانس کالج سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ہندوستانی پبلک سول سرویسز کا امتحان پاس کر کے 1950ء تک ہندوستان میں مسلم کمرشیل بینک سے متعلق ہوئے اور ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔

چونکہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ان کے خاندان کے افراد و احباب پاکستان ہجرت کرگئے تھے۔ لہذا وہ بھی 1950ء میں بھارت کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرگئے اور پاکستان کے شہر کراچی میں سکونت اختیار کی۔ یوسفی صاحب پاکستان میں رہتے ہوئے ذریعہ معاش کے لئے بینک کی نوکری کو ترجیح دی اور وہاں ایک بینک میں ملازمت اختیار کرلی، بینک میں مختلف عہدوں پر کام کرتے ہوئے بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ اسی  طرح 1974ء میں یونائٹیڈ بینک کے صدر اور 1977ء میں پاکستان بینکنگ کونسل کے صدر نشین منتخب کئے گئے۔ 11 سال تک انہوں نے لندن میں اپنی خدمات انجام دی اور 1990ء میں کراچی واپس لوٹ آئے۔
مشتاق احمد یوسفی  نے ایک بینکر ہونے کے باوجود اردو ادب میں مزاح نگاری کا جو اعلیٰ معیار قائم کیا اور اپنے پیچھے پانچ جن ادبی شہ پاروں کو چھوڑا ہے وہ اردو دنیا کے لئے ایک نایاب تحفہ ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ 1941ء میں چھپی جب کہ دوسری ’’خاکم بدہن‘‘ 1949ء، ’’زرگزشت‘‘ 1974ء، ’’آب گم‘‘ 1990ء اور آخری کتاب ’’شام ِ شعرِ یاراں ‘‘2014ء میں چھپی۔ ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے صدر پاکستان نے 1999ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2002ء میں ’’ہلال امتیاز‘‘ سے نوازا۔ 20 جون 2018 کو وہ کراچی میں انقال کر گئے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب