aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
اردو زبان میں یوں تو فن شاعری اور علم العروض پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن تمام محققین اورزبان داں اس بات پر متفق ہیں کہ بحرالفصاحت ان سب میں ممتاز ہے۔مولوی نجم الغنی خاں نے مختلف موضوعات پرتیس سے زائد کتابیں تصنیف و تالیف کیں لیکن یہی کتاب ان کی شہرت اور افتخار کا سبب ہوئی،جس سے بعد میں اس موضوع پر لکھنے والے تمام اہلِ عروض نے استفادہ کیا۔
شناخت: نامور مورخ، ماہرِ عروض و لسانیات، طبیبِ حاذق، بلند پایہ محقق اور شاعر
اردو ادب اور برصغیر کی علمی تاریخ میں مولوی حکیم محمد نجم الغنی خاں رام پوری (متخلص بہ نجمی) ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں جن کی علمی فتوحات کا دائرہ تاریخ نگاری، علمِ عروض، طبِ یونانی، لسانیات اور شاعری تک پھیلا ہوا ہے۔
8 اکتوبر 1859ء کو ریاست رام پور کے ایک بلند پایہ علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے اس درویش صفت عالم نے اپنی 82 سالہ زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جن کی مثال عصرِ حاضر میں ملنا مشکل ہے۔ آپ کا خاندان نسل در نسل فقہ، تصوف اور انشا پردازی کے لیے وقف تھا؛ آپ کے پردادا مولوی عبد الرحمن خاں کو شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی قربت حاصل تھی، جبکہ آپ کے والد مولوی عبد الغنی خاں اپنے عہد کے ممتاز عالم تھے۔
حکیم نجم الغنی خاں کی ابتدائی تربیت راجستھان کے علمی ماحول میں ہوئی، جس کے بعد انہوں نے رام پور کے مشہور مدرسہ عالیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں انہیں مولانا عبد الحق خیر آبادی اور مولانا محمد طیب مکی جیسے نابغہ روزگار اساتذہ سے فیض پانے کا موقع ملا اور 1886ء میں انہوں نے درسِ نظامی میں اول پوزیشن حاصل کر کے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ عملی زندگی میں وہ مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں یونانی شفا خانے کی انچارجی، رضا لائبریری کی نظامت اور نواب حامد علی خان کی درباری خدمات شامل ہیں، مگر ان کی اصل پہچان ان کی تصنیفی خدمات بنیں۔
آپ کی علمی بلندی کا اعتراف اپنے عہد کے بڑے بڑے اکابرین نے کیا۔ خواجہ حسن نظامی نے آپ کو ایک ایسا محقق اور بے باک مورخ قرار دیا جس نے راجپوتانہ کی تاریخ لکھ کر اورنگ زیب عالمگیر کی تاریخی حمایت کا حق ادا کیا۔ حکیم صاحب کی تاریخ نگاری کا ایک بڑا کمال ان کی تصنیف ’اخبار الصنادید‘ ہے، جو روہیل کھنڈ اور افغانوں کی تاریخ پر ایک مستند دستاویز ہے۔ اس کتاب کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال نے اسے تاریخ کا عمدہ نمونہ قرار دیتے ہوئے آپ کے سادہ اور موثر طرزِ تحریر کی بے حد تعریف کی۔ تاریخ کے میدان میں ان کی دیگر اہم کتب میں ’تاریخ اودھ‘ (چار جلدیں)، ’وقائع راجستھان‘ اور ’تاریخ ریاست حیدرآباد دکن‘ شامل ہیں، جو آج بھی محققین کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تاریخ کے ساتھ ساتھ، علمِ عروض اور فنِ شاعری پر آپ کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ آپ کی تصنیف ’بحر الفصاحت‘ کو اردو زبان میں اس موضوع پر ’انسائیکلوپیڈیا‘ کا درجہ حاصل ہے۔ یہ ضخیم کتاب، جو ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، نہ صرف پنجاب یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ رہی بلکہ آج بھی فنِ شاعری سیکھنے والوں کے لیے حرفِ آخر تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لسانیات اور قواعد پر ان کی کتاب ’نہج الادب‘ فارسی زبان و بیان کے اسرار و رموز کا خزینہ ہے۔
حکیم صاحب محض ایک ادیب اور مورخ ہی نہ تھے بلکہ طبِ یونانی کے ایک مایہ ناز معالج بھی تھے۔ ان کی طبی تصانیف جیسے ’خزانتہ الادویہ‘، ’خواص الادویہ‘ اور ’قرابا دین نجم الغنی‘ اطباء کے یہاں بے حد مقبول ہیں اور اپنی ضخامت و تحقیق کے اعتبار سے فنِ طب کا سرمایہ ہیں۔ علمی و تحقیقی مصروفیات کے باوجود آپ نے شاعری سے بھی اپنا رشتہ استوار رکھا اور ’دیوانِ نجمی‘ کی صورت میں اپنا کلام یادگار چھوڑا، جس میں کلاسیکی روایت کی جھلک نمایاں ہے۔
وفات: آپ نے 82 سال کی بھرپور علمی زندگی گزاری اور یکم جولائی 1941ء کو رام پور میں وفات پائی۔