ख़ुतूत-ए-ग़ालिब

मिर्ज़ा ग़ालिब

मतबुआत-ए-मज्लिस यादगार-ए-ग़ालिब, लाहौर
1969 | अन्य
  • उप शीर्षक

    खण्ड-001

  • सहयोगी

    ज़हरा क़ादिरी

  • श्रेणियाँ

    पत्र, पाठ्य पुस्तक

  • पृष्ठ

    538

पुस्तक: परिचय

परिचय

مکتوب نگاری کی ابتداء ا تقریبا اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ لکھنے اور خط کے ایجاد ہونے کی ابتداء ہے۔ کہتے ہیں کہ مکتوب نگاری کی ابتدا چار سو سال قبل مسحا، سومری زبان کے میخی خط سے ہوئی ہے۔اور 3500 سال قبل مسیح مصر، بین النہرین اور سومری بادشاہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ طور پر مکتوب نگاری کرنے لگے تھے۔ ایران میں مکتوب نگاری کی تاریخ ھخامنشی عہد سے شروع ہو چکی تھی۔ 1750 میلادی قبل از مسیح بابل میں ایک شخص "نانی" نام کاتھا جس نے اپنے دوست" ای آ نصیر" کو مٹی کے ٹکڑے پر بازار میں ہو رہی کالا بازاری کی شکایت کی۔ ایرانی اس کو ہی اول مکتوب نگار مانتے ہیں۔ لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس دن سے لکھنے کا رواج ہوا نامہ نگاری کا آغاز بھی اسی وقت سے ہو چکا تھا۔ابتدا میں نامہ نگاری نے نہ صرف سیاسی و حکومتی پیغام رسانی میں بہت ترقی حاصل کی بلکہ اس نے عشاق کے درد کی دوا کا کام بھی کیا۔ اول اول پیغام رسانی کے لئے راستے پر چوکیاں بنائی گئیں تاکہ بغیر تھکے اور دیری کے پیغام اپنی جگہ پہونچ جائے، جب پہلا انسان اس چوکی تک پیغام لیکر پہونچتا تو دوسرا تازہ دم آگے لے جانے کے لئے تیار ملتا۔ اس طرح کم وقت میں جلدی پیغام پہونچ جاتا تھا۔ یا کبوتر اور باز کا استعمال کیا جاتا تھا۔ دور جدید میں تو عشاق کے لئے پتنگ نے بھی پیغام رسانی کا خوب کام کیا ۔ مگر انٹر نیٹ جب آیا تو اس نے نامہ نگاری اور پیغام رسانی کے اس عہد کو یک دم سے ختم کر دیا اور اس کی جگہ پر ای میل اور دوسری چیزوں نے لے لی۔ مکتوب نگاری کے جس عہد میں غالب تھے اس عہد میں پوسٹ آفس کا قیام عمل میں آچکا تھا اور ڈاکیا، پیغامبر، پیغامرساں اور میسینجر اس کام کو کرتا تھا۔ غالب کو جب کوئی مسئلہ در پیش ہوتا یا کسی دوست کی یاد ستاتی یا کوئی ضرورت آن پڑتی تو اپنے شناساؤں کو خط لکھ کر بات کر لیا کرتے۔ انہوں نے سب سے زیادہ خطوط تفتہ کو لکھے۔ غالب شاعری میں سب پر بھاری ہے مگر جب ہم اس کی نثر پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ انشاء پردازی کا بھی امام ہے۔ اور کسی نے کہا ہے کہ اگر غالب شاعری نہ بھی کرتا تو بھی اردو ادب میں غالب کا وہی مقام ہوتا جو ہے۔ غالب کی دیگر نامہ نگاروں کے مقابلہ میں امتیازی شان یہ ہے کہ وہ اپنے خطوط میں بے تکلفانہ زبان کا استعمال کرتے۔ خط کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ طنز و ظرافت ان کا خاصہ ہے اس لئے وہ اپنے خطوط میں جابجا ظرافت کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔ غالب کے خطوط اردو ادب میں ایک طرز نو کا باب کھولتے ہیں اور اپنے مکتوب علیہ کو اپنے دل کا حال صاف صاف بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مکتوبات غالب ادب عالیہ کا ایک بہترین نمونہ ہیں۔ زیر نظر خطوط غالب کی جلد اول ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक: परिचय

मिर्ज़ा ग़ालिब

मीर तक़ी मीरके बाद उर्दू के सबसे बड़े शाइ, विश्व-कविता में उर्दू के हस्ताक्षर। शाइरी और ज़िंदगी दोनों में परम्परा-विरोधीअंदाज़ के लिए प्रख्यात। माली तौर पर परेशान और क़र्ज़ न लौटाने के कारण बार बार क़ानूनी कारवाई के शिकार रहे। जुवा खेलने खिलाने के इल्ज़ाम में क़ैद की सज़ा काटी। ज़ौक़के बाद बादशाह बहादुर शाह ज़फ़रके उस्ताद रहे।

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम