معارف

سید سلیمان ندوی

دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم، گڑھ
1925 | مزید
  • ذیلی عنوان

    شمارہ نمبر۔001

  • معاون

    رامپور رضا لائبریری، رام پور

  • صفحات

    84

کتاب: تعارف

تعارف

ماہنامہ "معارف" ہندوستان کے علمی و تحقیقی ادارے دار المصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ کا ماہانہ علمی و تحقیقی جریدہ ہے، جسے سید سلیمان ندوی نے جولائی ۱۹۱۶ میں جاری کیا تھا۔ اس کا مقصد مذہب و فلسفہ و فکر کی ترجمانی اور نئی تحقیق اور تازہ خیالات کا فروغ عام ہے۔ اس رسالے نے علمِ مذہبی کے ارتقا کو منظر عام پر لانے، اکابرِ سلف کی سوانح عمریوں کو مرتب کرنے اور حکمتِ اسلامی پر تحقیقی مضامین پیش کرنے میں فوقیت حاصل کی۔ نیز مباحث و انتقاداتِ ادب میں اپنے بلند معیار کو برقرار رکھا اور قارئین کم ہونے کے باوجود اس رسالے کی روشنی اب تک قائم ہے۔ ماضی میں الطاف حسین حالی، عبد السلام ندوی، پروفیسر نواب علی، شیخ عبد القادر، عبد الماجد دریابادی، اقبال احمد سہیل، ڈاکٹر محمد اقبال اور نیاز فتحپوری جیسے زعما اس کے مقالہ نگاروں میں شامل تھے۔ معارف کی ادبی خدمات اس دور کے متعدد رسائل سے زیادہ ہیں۔ سلیمان ندوی نے "معارف" کے مقاصد پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی ہے، "فلسفہ حال کے اصول اور اس کا معتد بہ حصہ پبلک میں لایا جائے۔ عقائد اسلام کو دلائل عقلی سے ثابت کیا جائے، علوم قدیمہ کو جدید طرز پراز سر نوترتیب دیا جائے، علوم اسلامی کی تاریخ لکھی جائے اور بتایا جائے کہ اصل حصہ کہا ں تک تھا اور مسلمانوں نے اس پر کیا اضافہ کیا، علوم مذہبی کی تدوین اور اس کے عہد بہ عہد کی ترقیوں کی تاریخ ترتیب دی جائے، اکابر سلف کی سوانح عمریاں لکھی جائیں، جن میں زیادہ تر ان کے مجتہدات اور ایجادات سے بحث ہو، عربی زبان کی نادر الفن اور کم یاب کتابوں پر ریویو لکھے جائیں، اور دیکھا جائے کہ ان خزانوں میں ہمارے اسلاف نے کیا کیا زرو جواہر امانت رکھے ہیں اور سب سے آخر لیکن سب سے اول یہ کہ قرآن مجید سے متعلق، عقلی، ادبی، تاریخی، تمدنی اور اخلاقی مباحث جو پیدا ہوگئے ہیں، ان پر محققانہ مضامین شائع کیے جائیں۔" (ماہنامہ معارف جولائی ۱۹۱۶ء ص ۵) "معارف" کے ادبی حصہ میں جن شعرا کے کلام شائع ہوتے تھے ان میں مولانا محمد علی جوہر، اقبال سہیل، مولانا آزاد سبحانی، علامہ اقبال، اکبرالہ آبادی، اصغر گونڈوی، مولانا عبدالسلام ندوی، روش صدیقی، فراق گورکھ پوری، حسرت موہانی، فانی بدایونی اور جگر مرادآبادی جیسے شعرا شامل رہے ہیں۔ "معارف" کی ضخامت تقریباً ۸۰ صفحات تھی۔ اور ۴ روپیہ سالانہ قیمت، جو اب ۲۸۰ روپے ہوگئی ہے۔ ماہنامہ "معارف" ایک صدی سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی ہنوز جاری و ساری ہے اور تشنگانِ علم و تہذیب کی پیاس بجھا رہا ہے۔ فی الوقت اس کی ادارت کی ذمہ داریاں سید محمد رابع ندوی لکھنئو سے اور پروفیسر ریاض الرحمٰن خاں علی گڑھ سے نبھا رہے رہے ہیں۔ معارف کے دفتر کا پتا ہے، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، شبلی روڈ، اعظم گڑھ، اتر پردیش ۲۷۶۰۰۔ ایک صدی کے دوران اس رسالے نے صرف تین خصوصی شمارے شائع کیے۔ پہلا سید سلیمان ندوی، دوسرا حبیب الرحمن خاں شروانی، اور ابھی شبلی صدی کے موقع پر شبلی نمبر کی اشاعت ہوئی تھی ۔ ہندو پاک کی مختلف جامعات میں رسالہ "معارف" پر تحقیق کا کام بھی ہوا۔ ماہنامہ "معارف" کی اردو ادبی تحقیقات کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔۱۔ قلمی نسخوں اور نادر مطبوعات سے متعلق مقالات و مضامین۔ ۲۔ ادبا وشعرا کے احوال سے متعلق تحریریں۔۳ - متفرق تحقیقی موضوعات۔ ۴- ذخیرہ ہائے مخطوطات کا تعارف اور۵۔ اردو شعرا کے تذکروں سے متعلق مقالات۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر: تعارف

سید سلیمان ندوی

علامہ سید سلیمان ندوی نومبر 1884ءمیں موضع دیسنہ ضلع عظیم آباد میں پیدا ہوئے۔یہ بڑا مرد م خیز خطہ ہے۔ اس چھوٹے سے گاو¿ں نے جتنے گریجویٹ پیدا کیے اتنے پاک وہند کے کسی اور گاو¿ں نے پیدا نہ کیے ہوں گے۔اسی طرح اس نے عربی کے بھی متعدد منتہی پیدا کیے ۔ انہی میں سید سلیمان ندوی کا شما ر ہو تا ہے۔ان کے والد ماجد کا نام ابوالحسن تھا۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ابتدائی تعلیم قصبہ پھلواری بھنگہ میں حاصل کی ۔ اس کے بعد دارالعلوم ندوةالعلماءلکھنو میں تعلیم حاصل کی۔ اسی زمانے میںعلامہ شبلی نعمانی نے مولانا ندوی صاحب کو اپنے حلقہ تلمند میں شامل کر لیا۔ سید صاحب جب فارغ التحصیل ہو ئے تو اسی ادارے سے وابستہ ہو گئے لیکن وہ بہتر ملازمت کے سلسلے میں حیدرآباد جانا چاہتے تھے۔علامہ شبلی نعمانی نے کو ششیںبھی کیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں سید صاحب 1908ءمیں حیدرآباد بھی گئے تھے لیکن قدرت کو ان سے کچھ اور ہی کام لینا تھا۔سید سلیمان ندوی صاحب عربی زبان پر بھی بڑی قدرت رکھتے تھے۔دارلعلوم ندوہ کے سالانہ اجلاس میں سید صاحب نے پہلی دفعہ عربی میںبرجستہ تقریر کی جسے سن کر علامہ شبلی اس قدر خوش ہو ئے کہ انہوں نے جلسہ میں اپنا عمامہ اتارکران کے سرپر رکھ دیا ۔ سید صاحب نے کچھ عر صہ دارالعلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں جبکہ کچھ عرصہ تک ”الہلال“میں مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد وہ دکن کا لج پو نا میں دوسال تک فا رسی کے اسسٹنٹ پر وفیسر رہے۔مارچ 1911ءمیں سید صاحب کو پھر حیدرآباد جانے کا موقع ملا۔ علامہ شبلی کے دوران قیام عماد الملک نے ان کے ندوةاالعلماءکے کام سے متاثر ہو کر اپنا بیش قیمت کتب خانہ ندوہ کو دے دیا تھا۔چناں چہ اس کتب خانے کو حیدرآّباد سے لانے کیلئے مولانا شبلی نعمانی نے سید صاحب کاانتخاب کیا ۔1941ءمیں جب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوا تو سید صاحب دکن کا لج پو نا میں لیکچر ار تھے۔علامہ صاحب نے ان کو وصیت کی تھی کہ سب کام چھوڑ کر سیرةالنبیﷺکی تکمیل اور اشاعت کا فرض اداکریں۔چنانچہ سید صاحب نے ملازمت ترک کردی ۔ ان کے پیش نظر دواہم منصوبوںکی تکمیل تھی۔ ایک سیرة النبیﷺکی تصنیف و تالیف اور دوسرادار لمنصنفین کے نو خیز پو دے کو بار آور کر نا ۔ انہوںنے ہر جانب سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو ان مقاصد کے لئے وقف کر دیا۔بالآخر بڑی خوش اسلوبی سے انہوں نے اپنے استاد کی نامکمل کتاب کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا اس کی وجہ سے علمی دنیا میں ان کا نام دوردور تک مشہور ہو گیا سیرت کی چھ جلدوں میںابتدائی پو نے دو جلدیں انکے استاد شبلی نعمانی کی ہیںجبکہ بقیہ سواچار کتابیں انہوںنے خود مرتب کیں سید صاحب کی علمی فضیلت کے حوالے سے جناب ضیاءالدین برنی اپنی کتاب ”عظمت رفتہ “میں لکھتے ہیں کہ1920ءمیں جب وفد خلافت انگلستان بھیجنے کی تجویز سامنے آئی تو سلیمان ندوی کو ان کی غیر معمولی علمی فضیلت کی وجہ سے علمائے ہند کی جانب سے وفد سے میں شامل کیا گیا۔وہاں انہوںنے ممتاز مستشر قین سے ملاقاتیں کیںاور انہیں اپنا ہم خیا ل بنایا انہوں نے جنگ آزادی میں بھی بھر پور حصہ لیا 1917ءمیں اجلاس علمائے بنگال منعقدہ کلکتہ کی صدار ت فرمائی اور حکومت کے جبر وتشدد کے باوجود جرات آموز خطبہ عطا کیا کہ لوگوں کے ذہن سے انگریز کی مرعوبیت اٹھ گئی علامہ شبلی نعمانی کی طرح علامہ سید سلیمان ندوی کوبھی تاریخ اور ادب سے خاص لگاو¿تھا۔انہوں نے سیرت ، سوانح ، مذہب زبان وادب کے مسائل پر تحقیقی کام کیا اور ماہنا مہ معارف جاری کیا اور اس کے ذریعے دین وادب کی ٹھوس خدمت کی 1950ءمیں ندوی صاحب پاکستان آگئے اور کراچی میں آباد ہوئے یہاں انہوں نے پاکستان اور ملت اسلامیہ کی جو خدمات انجا م دیں وہ کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں ندوی صاحب ایک بلند پایہ عالم مورخ ، مصنف او ر مدبرتھے۔ ان کی تصانیف میں سیرت النبی حصہ سوم تا ششم ، خطبات مدارس ، عرب وہند کے تعلقات ، عر بوں کی جہاز رانی ، سیر ت عائشہ ، حیات شبلی ، خیام اور نقوش سلیمانی شامل ہیں۔علامہ سیلمان ندوی کو شعر و سخن کا بھی شوق تھا۔ان کا شعری مجموعہ ”ارمغان سیلمان“ کے عنوان سے شائع ہو ا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ان کو ”نشان سپاس “سے نوازا۔ نومبر کے آخری مہینے 1953ءکو مولانہ ندوی مجاہد اسلام ، عالم ، ادیب شاعر علامہ شبلی نعمانی کے رفیق کا راور شاگر د مولف ”سیرت النبی “نے دار فانی سے کوچ کیا اور ما لک حقیقی سے جاملے مولانا کی آخری آرام گا ہ اسلامیہ کالج کر اچی کے عقب میں ایک احاطہ میںواقع ہے۔ان کی تد فین کے وقت سفیر شا م نے کہا کہ ہم سلیمان ندوی کو دفن نہیں کر رہے بلکہ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام دفن کررہے ہیں۔

https://www.nawaiwaqt.com.pk/24-Dec-2016/545769

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب