مجلس ادب

کلیم عاجز

خدا بخش لائبریری،پٹنہ
2003 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

"مجلس ادب" کلیم عاجز کی تحریر کردہ کتاب ہے۔ یہ کتاب ادب و شعر کا ایسا گلدستہ ہے جس میں کسی ادارے کی مکمل روداد، اراکین کے خاکے اور مشاہیر کے کلام پر تبصرے کیے گئے ہیں ۔مجلس ادب در اصل صوبہ بہار کی ایک تنظیم تھی جس میں ادباء و شعراء کے فرض منصبی کے جذبات کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیا جاتا تھا، جس کے افراد ادب کے صالح اقدار کے حامل تھے ۔کلیم عاجز صاحب اس تنظیم کے خازن تھے، چنانچہ انھو ں نے اس کتاب میں مجلس ادب سے وابستہ شخصیات کےکارناموں اور تنظیم کی روداد کو بیان کیا ہے۔تنظیم کی روداد سے پہلے انھوں نے ایک مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں بڑی ہی تفصیل کے ساتھ عظیم آباد اور اس کے ارد گرد کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ہے اور اسی پس منظر میں مجلس ادب کے قیام، احتیاج اور مقاصد کو بڑے ہی عمدہ انداز میں پیش کیا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

کلیم عاجز

کلیم عاجز

نام کلیم احمد اور تخلص عاجز ہے۔۱۹۲۵ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالا ت کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نوے جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلس ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب