مخدوم محی الدین

آل احمد سرور, مخدومؔ محی الدین

انجمن ترقی اردو ہند، علی گڑھ
1972 | مزید

مصنف: تعارف

آل احمد سرور

آل احمد سرور

آل احمد سرور 9 ستمبر 1911 کو بدایوں کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1928 میں ہائی اسکول پاس کیا۔ اس کے بعد سینٹ جانس کالج آگرہ سے بی ایس سی کی۔ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا۔ 1936 میں علیگڑھ ہی سے اردو میں بھی ایم اے کیا۔ 1938 میں شعبۂ اردو میں لکچرر ہوگئے۔ 1946  سے 1955  تک لکھنؤ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1955  میں پھر علیگڑھ آگئے اور رشید احمد صدیقی کے بعد شعبے کے صدر رہے۔ 
 لکھنؤ میں اپنے قیام کے دوران سرور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور انجمن کے جلسوں میں شریک ہونے لگے لیکن وہ کبھی بھی ترقی پسند نظریاتی جبر کا شکار نہیں ہوئے ۔ ان کی ترقی پسند فکر ہمیشہ انسان دوستی کی علمبردار رہی ، وہ سرمایہ داری اور رجعت پسندی کی مخالفت کرتے رہے لیکن ادب کے اس ہنگامی اور انقلابی تصور کے خلاف رہے جس کا پرچار اس وقت میں جوشیلے نوجوان کر رہے تھے۔ سرور نے مغربی اور مشرقی ادب کے گہرے مطالعے کے بعد اپنی تنقید نگاری کے لئے ایک الگ ہی انداز دریافت کیا۔ اس میں مغربی تنقیدی اصولوں سے استفادہ بھی ہے اور مشرقی اقدار کا رچاو بھی۔ 
تنقید نگار کے ساتھ ایک شاعر کے طور پر بھی سرور منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں فکر انگیزی، کلاسیکی رچاو اور جدید احساس کی تازہ کاری ملتی ہے۔ سرور کی تنقید اور شاعری کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کے نام یہ ہیں۔ ’نئے اور پرانے نظریے‘ ’تنقید کیاہے‘ ’ادب اور نظریہ‘ ’مسرت سے بصیرت تک‘ ’اقبال کا نظریہ اور شاعری‘ ’ذوق جنوں‘ (شاعری) ’خواب باقی ہیں‘(خودنوشت)۔ 

.....مزید پڑھئے
مخدومؔ محی الدین

مخدومؔ محی الدین

نام ابو سعید محمد مخدوم محی الدین حذری۔ ۴؍فروری ۱۹۰۸ء کو سنگاریڈی ، تعلقہ اندول ،ضلع میدک حیدرآباد ،دکن میں پیدا ہوئے۔ مخدوم نے قرآن شریف ختم کرنے کے بعد دینیات کی تعلیم پائی۔ وہ ایک مذہبی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ ۱۹۳۴ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی اے اور ۱۹۳۶ء میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۳۶ء میں سٹی کالج کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئے۔ ۱۹۴۱ء میں چند وجوہ کی بنا پر مستعفی ہوگئے۔ ۱۹۴۰ء میں مخدوم کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری منتخب ہوئے۔اس طرح ان کی سیاسی مصروفیتیں بہت بڑھ گئیں۔ جولائی ۱۹۴۳ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی باقاعدہ تشکیل مخدوم کی رہنمائی میں ہوئی۔ ۱۹۵۶ء میں عام انتخابات کے موقع پر وہ آندھراپردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اپنی وفات تک وہ اس کے رکن رہے۔ انھوں نے پابند اور آزاد نظمیں بھی لکھیں۔ قطعات، رباعی اور غزلوں میں بھی طبع آزمائی کی۔ زندگی کے آخری ایام میں مخدوم کو سینے اور حلق کی تکلیف تھی۔ وہ ۲۵؍اگست ۱۹۶۹ء کو دہلی میں انتقال کرگئے ۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’سرخ سویرا‘، ’گل تر‘، ’بساط رقص‘۔

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:405

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب